Select your Top Menu from wp menus

شیوہر کے معمار تھے وہ……..

شیوہر کے معمار تھے وہ……..

فضل المبین

نیا سال آیا، ہر کو ئی خوش، مست ومگن تھا ہر کوئی اسے اپنا بنا نے کی چاہت میں لگا تھا، ہر بھائی  دوسرے بھائی کو اسکے حق میں دعائیں دے رہاتھا، ہر دوست دوسرے دوست سے نیک خواہشات کا اظہار کر رہا تھا، وہیں برادران وطن پکنک مناکر کراس سال کو سفل بنا نے میں لگے تھے لیکن ان سبھوں کے بر عکس نئے سال ۲۰۱۸نے اسکے مخا لف ہو نے کے آثار بتا دیئے کیونکہ کے سال نو سے ہی سردی نے قہر بر پانے شروع کر دی، پچھلے کئی سالوں کے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ وہیں ہماری کئی معزز شخصیات بھی یکے بعددیگرے ہم سے رخصت ہونے لگے
جہاں سال کے دوسرے دن ہی مشہور ناظم مشاعرہ انور جلال پوری نے دنیا کو خیرآباد کہا وہیں سال کے چوتھے دن نے ہمارے رہنما، بےباک لیڈر الحاج شاہد علی خان کو ہم سے چھین لیا
اور آج اسکے پندرہویں دن ایک اور سیاسی قدآور  رہنما کی چراغ غل ہو گئی….. جسے زمانہ پنڈت رگھو ناتھ جھا کے نام سے جانتا تھا اس شخص نے اپنی زندگی کی 79 بہاریں دیکھی جس نے بچپن میں غربت اور جوانی میں بادشاہت دیکھی، جن کے طبیعت میں بشاشت اور مزاج میں قیادت تھی، جو شیوہر کا معمار اور غریبوں کا غم گثار تھا، جن کے سفر کی شروعات مکھیا سے ہوئی اور اسکا اختتام وزیر پر ہوا…..وہ سب کے چہیتے ہر دل عزیز لیڈر تھے
انہوں نے ملک وملت کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی تھی
“جھا جی” 9 اگست 1939 کو  شوہر ضلع کے پپڑاڑھی تھانہ کے امبا ٹولہ بستی میں پیدا ہوئے
اپنے سیاسی زندگی کی شروعات مکھیا سے کی،  ان کے زندگی میں کئی بار اتار چڑھاؤ آئے، انہوں نے  1972 میں کانگریس کی رکنیت حاصل کی نیز وہ 28 سالوں تک شیوہر اسمبلی حلقہ کی راہنمائی کرتے رہے  وہ لگاتار 6 بار شیوہر اسمبلی حلقہ کے راہنما مقرر کیے گئے نیز وہ وہ بیتیا اور گوپال گنج کے رکن پارلیمنٹ بھی رہے، اور منموہن سرکار کی پہلی حکومت میں کابینہ وزیر مقرر کئے گئے
1988 میں انہیں ” جنتا دل” تنظیم کا پہلا صدر مقرر کیا گیا
وہ 37سالوں تک پارلیمانی و اسمبلی میں الگ الگ عہدے پر  فائز رہے
اور بہار حکومت میں ڈیڑھ درجن سے زائد حلقہ کی  وزارت سنبھالی   جوکہ سعادتمند اور خوش قسمت ہونے کی دلیل ہے
1990میں وزیر اعلی کا الیکشن بھی لڑا اور لالو پرساد یادو کو وزیر اعلی بنانے میں اہم  کردار نبھایا …..
شیو ہر جو کہ بہار کا سب سے چھوٹا ضلع ہے اسے ضلع بنانے میں رگھوناتھ بابو سر فہرست رہے
انکے چہیتے،  ہر دل عزیز ہونے کا سبب یہی ہے کہ انہوں نے معمولی بازار کو ضلع بنا کر ہی دم لیا……
سیاست کے شہنشاہ سے میری ملاقات میرے گھر پہ ہوئی تھی، ان سے میرے اہل خانہ کو کافی قربت حاصل تھی انہوں نے کئی بار ہماری میزبانی قبول کی اور  آنے کا زحمت گوارا کیا…
وہ کافی دنوں سے بیمار چل رہے تھے، وہ جگر اور گردہ کے مریض تھے  آخر کار وہ  ہماری قیادت و راہنمائی کرتے کرتے تھک گئے اور ہمشہ ہمیش کیلئے ابدی نیند سو گئے
انکی موت سے سیاست کی دنیا میں جو خلا پیدا ہو ئی ہے اس کی تلافی ناممکن ہے
اب وہ ہمارے بیچ نہیں رہےوہ اپنے کاموں اور ہمارے ساتھ بیتے ہوۓ لمحات کے ذریعہ یاد کئے جائینگے

انکے ورثہ میں ایک بیٹی اور ایک بیٹا “اجیت جھا”ہیں جو کہ دو بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں

*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=*=
– خیروا، ڈھاکہ
ابن-مولانا نذرالمبین صاحب ندوی
امام و خطیب جامع مسجد ڈھاکہ
fazlulmubeen@gmail.com