Select your Top Menu from wp menus

24جنوری کو یوم وفات پر  بہار کے عظیم المرتبکیف آور شاعر: کیف عظیم آبادی

24جنوری کو یوم وفات پر  بہار کے عظیم المرتبکیف آور شاعر: کیف عظیم آبادی

اشرف استھانوی

ہواؤں میں خوشبوہے کس کے بدن کی
کسے کیف ؔ پچھلے پہر ڈھونڈتے ہیں
شادعظیم آبادی اور جمیل مظہری کی روایت کو آگے بڑھانے اور عظیم آباد کی عظمت میں چار چاند لگانے والے بہار کے عظیم اور نا قابل فراموش شاعروں میں ایک نام کیف عظیم آبادی کا بھی ہے۔ کیف عظیم آبادی کا اصلی نام محمد یسین اور تخلص کیف تھا۔ ۱۸ جون ۱۹۳۷ء کو عظیم آباد پٹنہ میں پیدا ہوئے تعلیمی اعتبار سے بہت سند یافتہ نہیں تھے۔ مگر شاعرانہ شعور قدرت نے انہیں بخشا تھا۔ ان کی شاعرانہ صلاحیت کو ان کے استاد رمز عظےآبادی نے بھی جلا بخشی۔ اس لئے شاعری میں وہ آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے اور ملک و بیرون ملک میں عظیم آباد کا نام روشن کیا۔ قدرت کی طرف سے انہیں ایک خاص تحفہ ترنم کی شکل میں ملا تھا جس کی بدولت انہوں نے مشاعروں میں خوب رنگ جمایا اور طویل عرصے تک مشاعروں کی جان بنے رہے۔ انہوں نے ہندو پاک کے علاوہ دوبئی ، ابو ظہبی، جدہ، العین، اور مسقط کے عالمی مشاعروں میں بھی عظیم آباد کی قابل فخر نمائندگی کی اور عالمی سطح پر خراج تحسین حاصل کیا۔ ان کے شعری مجموعے صداؤں کے سائے، سنولائی دھوپ، لہریں، اپنے لہو کا رنگ،انگنائی اور پچھلے پہر کی بانسری کے علاوہ ہند و پاک کے مختلف معیاری جرائد میں شائع شدہ ان کے کلام اور مختلف فنکاروں کے ذریعہ گائی گئی ان کی غزلیں HMV کے ریکارڈ اور ٹی سیریز کیسٹ کی شکل میں بطور یاد گار موجود ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے منتشر غیر مطبوعہ کلام ہیں جنہیں ان کی لائق وفائق صاحبزادی ڈاکٹر زر نگار یاسمین زیور طبع سے آراستہ کرکے منظر عام پر لانے کی کوشش کر رہی ہیں ۔کیف عظیم آبادی کی دختر نیک اختر ڈاکٹر زر نگار یاسمین ان کی سچی جاں نشیں ہیں ۔ انہوں نے اپنے والد محترم کے حیات و خدمات پر مبنی اپنی ایک کتاب ’’کیف عظیم آبادی مقام اور کلام ‘‘ کے نام سے ترتیب بھی دی ہے ۔ جس کی اشاعت چند سالوں قبل ہوئی ہے ۔ وہ اپنے والد ماجد کی یاد میں اپنی رہائشگاہ پر اکثر جلسوں کا انعقاد کر کے اپنے والد محترم سے عقیدت رکھنے والے لوگوں کو مدعو کر کے ان کی ضیافت اور عزت افزائی کا اہم فریضہ انجام دے رہی ہیں ۔
اپنی شاعری کے سلسلہ میں کیف عظیم آبادی خود فرماتے ہیں کہ میں بنیادی طور پر غزلوں کا شاعر ہوں، اور غزلوں کے کینوس میں تمام تر کیفیات اور اپنے عہد کے مزاج کی عکاسی کرنا میرا مخصوص مزاج رہا ہے۔ اس کے علاوہ میں قطعات بھی کہتا رہاہوں اور اس توسط سے بھی میں نے کم و بیش اسی مزاج کو مستحکم کیا ہے جو میری غزلوں میں ہیں۔
بلا شبہ کیف عظیم آبادی غزل کے شاعر ہیں اور ان کی غزلوں میں قدیم اور جدیدکا بڑا حسین اور دل آویز امتزاج ملتا ہے۔ انہوں نے قطعات بھی کہے ہیں اور انگنائی ان کے قطعات کا ہی مجموعہ ہے۔ لیکن ان کے قطعات میں بھی کیف کا مخصوص انداز تغزل پایا جاتا ہے۔ معروف ناقد پروفیسر عبد المغنی کے مطابق کیف کے بیشتر قطعات ان کے مخصوص انداز تغزل کے ہی نمونے ہیں جن میں خاص قسم کی رومانیت اور مترنم اظہار پایا جاتا ہے یہ چیز کیف کے حالات کے مطابق ہے وہ احساسات کے شاعر ہیں اور انہیں کے اظہار کے لئے اپنی بنائی ہوئی تصویروں میں تخیل سے بھی کام لیتے ہیں۔ ایک طرف رومانی خیالات ہیں تو دوسری طرف نفسیاتی احساسات اور ہر حال میں بالعموم پس منظر ایک گھریلو ماحول ہے۔ یعنی شاعر کے مشاہدات اور مطالعات کا مرکز جو اس کی شریک حیات ہے۔ یہ ایک حقیقت پسند رویہّ ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی انداز نظر بھی ہے۔
میری آنکھوں میں ڈال کر آنکھیں
کس محبت سے آج اس نے کہا
چائے پی کر ہی جائیے باہر
آج موسم بہت ہے برفیلا
میری ہر چیز ہو قرینے سے
وقت اس میں گذار دیتی ہے
لا ابالی دے کے وہ طعنہ
میرا کمرہ سنوار دیتی ہے
کیف عظیم آبادی کی شاعری کے سلسلہ میں عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر بشیر بدر فرماتے ہیں کہ کیف عظیم آبادی نے شعوری یا لا شعوری طور پر ہندستان کی اس عورت کی کردار نگاری کی ہے جو مذہب کے نام پر بے جا جکڑ بندیوں میں اسیر نہیں ہے۔ ان کا شعری اسلوب بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ ان کی لفظیات کا نظام خالص اسلامی اردو نہیں ہے بلکہ وہی اردو ہے جس نے میر حسن کے ساتھ دیاشنکر نسیم، جگر اور اصغیر کے ساتھ رگھو پتی سہائے فراق گورکھپوری، کرشن چندر اور راجندر بیدی کے ساتھ سعادت حسن منٹو پیدا کئے ہیں۔
دل میں اٹھتے ہوئے حسین جذبات
ایک نئے رخ پہ موڑ دیتی ہے
میز پر رکھ کے وہ میری تصویر
کتنی شردھا سے چوم لیتی ہے
میرا خیال ہے کہ کیف عظیم آبادی کی اس انفرادیت کا احترام کرنا چاہئے اس کے علاوہ قطعات کی اچھی شاعری کے لئے جن شعری محاسن کا ہونا، فن چابکدستی سے کام لینا ضروری ہے، اس کا خوبصورت مظاہرہ ان کے قطعات میں ہے۔
میری منزل کے آپ کے رستے
کیا برا تھا اگر جدا ہوتے
دکھ اٹھاتے نہ ہم سفر بن کر
کاش کے آپ بے وفا ہوتے
کیف کی شاعری اور ان کی نظریاتی وابستگی کے سلسلہ میں ڈاکٹراحمد حسین آزاد فرماتے ہیں کہ کیف نظریاتی طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے ہیں لیکن 1965 کے بعد ان کی شاعری نے ایک نئی کروٹ لی اور ایک نئے لب و لہجہ کی گونج سنائی دینے لگی جس کی پرچھائیاں واضح طورپر ان کی غزلوں میں آپ کو ملیں گی۔
راہ چلتے ہوئے شو کیس کو دیکھا نہ کرو
کرب ہی کرب لئے لوٹ کے گھر جاؤ گے
کیف عظیم آبادی کی شاعری سہل اور دلنشیں ہونے کے علاوہ ترنم ریزتھی جس سے انہیں بے پناہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ عمر کے ساتھ ساتھ شاعری میں آئی پختگی نے انہیں خود بینی اور خود شناسی بھی عطا کی تھی۔ کیف نے 1954 میں انجمن ترقی اردو بہار کے زیر اہتمام پٹنہ میں منعقد ایک کل ہند مشاعرہ میں کشن پرساد کال، پنڈت عرش ملسیانی، پرویز شاہدی اور ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد جیسے شعراء کے سامنے اپنا تعارف اس شعر کے توسط سے پیش کیا تھا ؂
مجھے زیب دے رہا ہے سرِ بزم مسکرانا
میرے نقش پا سے آگے نہ بڑھا کبھی زمانہ
کیف کے ہزاروں لاکھوں چاہنے والوں میں راقم الحروف بھی شامل ہے۔ کیف عظیم آبادی کے سلسلے کا ایک اہم واقعہ جو میرے لئے نا قابل فراموش ہے ۔ سال 1993 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد جب پورے ملک کی فضا مکدر تھی ، سینکڑوں جانیں تلف ہو چکی تھیں ، ریاست و ملک کے لوگ خوف ودہشت میں مبتلا تھے۔ اس اہم موقع پر اس شاعر عظیم نے انسانی یکجہتی کا اپنا اہم فریضہ انجام دیا تھا ۔ 23 مارچ 1993 کو پٹنہ کے سینئر ایس پی امریک سنگھ نمبران کے ساتھ میرا انٹر ویو طے تھا ، وقت مقررہ پر ہم لوگ آکاشوانی پٹنہ پہنچے ۔ آکاش وانی کے اعلیٰ افسران سینئر آئی پی ایس افسر کے والہانہ استقبال کے لئے تیار تھے۔ گاڑی سے اتر تے ہی انہیں اسٹوڈیو کی طرف لے جایا گیا ، لیکن اسٹوڈیو انگیج تھا ۔ وہاں قبل سے کیف عظیم آبادی اپنی نظم کی ریکارڈنگ میں مصروف تھے۔ آکاشوانی انتظامیہ چاہتی تھی کہ سینئر آئی پی ایس افسر کا انٹر ویو پہلے کر لیا جائے ، بعد میں کیف صاحب کی ریکارڈنگ ہو ۔ لیکن جب مجھے اطلاع ملی کہ کیف صاحب اسٹوڈیو میں جلوہ افروز ہیں اور اپنی مترنم آواز میں حب الوطنی پر مبنی طویل نظم ریکارڈ کر وا رہے ہیں ، میں نے سینئر ایس پی سے گذارش کی کہ آبروئے غزل کیف عظیم آبادی اپنا کلام ریکارڈ کر وا رہے ہیں ، ایسے میں ان کی ریکارڈنگ ہونے دی جائے، میری گذارش کو نمبران صاحب نے مان لیا اور آدھے گھنٹے کی وہ نظم مکمل ہو گئی ، ریکارڈنگ روم میں ، میں اور نمبران صاحب کیف صاحب کی نظم سن رہا تھا ۔ انہوں نے کثرت میں وحدت پر مبنی جو نظم پیش کی تھی اور مسحور کن آواز میں جو ہندو مسلم اتحاد کا نقشہ پیش کیا تھا ،وہ آج میری ذہن کے دریچوں میں رقص کر رہا ہے ۔ وہ نظم تھی ؂
گلشن کی حفاظت میں ہم جان لٹا دیں گے
اک ڈال کے پنچھی ہیں دنیا کو دکھا دیں گے
مسجد بھی ہماری ہے مندر بھی ہمارے ہیں
جو بھی یہاں رہتے ہیں، بھارت کے دلارے ہیں
بھولا یہ سبق سب کو ہم یاد دلا دیں گے
اک ڈال کے پنچھی ہیں دنیا کو دکھا دیں گے
کیف صاحب سے میری پہلی ملاقات 1986 میں بہار شریف میں ہوئی، موقع تھا ادارۂ فروغ اردو نالندہ کے زیر اہتمام منعقدہ آل بہار مشاعرہ کا ۔ کیف صاحب اس مشاعرے میں فروغ اردو کے کنوینرمیرے بزرگ معروف دانشور دوست مظہر عالم مخدومی صاحب کی دعوت پر شریک ہوئے تھے اور صدر ہونے کے ناطے میں ان کی میز بانی میں آگے آگے تھا۔ مشاعرہ انتہائی کامیاب رہا تھا ۔ اس تاریخی مشاعرہ میں رمز عظیم آبادی ، شان الرحمن، شام رضوی، اثر فریدی، شگفتہ سہسرامی، فردوس گیاوی بھی شامل تھے۔ اس مشاعرے کی یاد یں تاحیات کیف صاحب کے ذہن پر چھائی رہیں۔ پٹنہ یں جہاں کہیں بھی ان سے ملاقات ہوتی وہ اس مشاعرے کی کامیابی اور حُسن انتظام کا ذکر کئے بغیر نہیں رہتے تھے۔ کیف صاحب ایک عظیم شاعر ہونے کے علاوہ ایک خوش اخلاق اور وضع دار خوش لباس انسان بھی تھے اور باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ آل انڈیا ریڈیو پٹنہ اور بہار ٹیلی کام کے چیف جنرل منیجر رستم علی صاحب کی رہائش گاہ پر اکثر مل جایا کرتے اور جہاں شاعروں ادیبو ں اور اہل اردو کی مجلسیں جما کرتی تھیں اردو کے سلسلہ میں وہ بے حد فکر مند رہا کرتے تھے۔ اور اہل اردو کی بے حسی پر اظہار افسوس بھی کیا کرتے تھے۔ ؂
یوں ٹوٹ کر بھی خود کو بکھرنے نہیں دیا
اس انتشار میں بھی سلیقہ بنا رہا
۔۔۔۔۔۔
میں کس کو اپناکہہ کے بلاتا جہان میں
ہر آئینہ خلوص کا دھندلا ملا مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھرتے ہیں لوگ ٹوٹی ہوئی شخصیت لئے
جو شخص بھی ملا وہ ادھورا ملا مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی نظر بھی حال پہ میرے نہیں گئی
شہہ رگ سے بھی ہمارے بہت جو قریب تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دفعتاً حیا بھی لڑکپن کے کھیل میں
ہلکا سا کچھ شعور بھی نادانیوں میں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے جذبۂ خود داری جھکنے نہ دیا تونے
لکھنے کے لئے ورنہ سونے کے قلم آتے
اور ان جیسے ہزاروں لا فانی اشعار کہنے والا عظیم آباد کا یہ خوش گلو شاعر 24 جنوری 1994 کو اپنے ہزاروں لاکھوں چاہنے والوں سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گیا۔ ؂
جسم تو جسم ہے اک دن خاک میں مل جائے گا
تم بہر حال کتابوں میں پڑھوگے مجھ کو

  • 2
    Shares
  • 2
    Shares