Select your Top Menu from wp menus

سلیم تم واقعی ناراض ہوگئے!

سلیم تم واقعی ناراض ہوگئے!
ایم ودودساجد

دہلی کے ایک ہسپتال میں آج اردو صحافت کے ایک قلندر صفت سپاہی سلیم صدیقی نے بھی دم توڑ دیا۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔
ان کے انتقال سے مجھے اس لئے بھی زیادہ صدمہ پہنچا کہ ایک عرصہ تک میں نے ان کے ساتھ دو مختلف اخبارات میں کام کیا تھا‘اور اس لئے بھی زیادہ دکھ ہوا کہ انہوں نے اپنا آخری وقت بڑی معاشی عسرت اور گھریلو دشواریوں میں گزارا۔

ایک بڑے اخبارمیں ایک عرصہ تک کام کرنے کے بعدانہوں نے جس چھوٹے اخبار میں ملازمت کی تھی اس نے بھی جلد ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔اردو اخبارات کے ساتھ موجودہ حکومت نے جو مجرمانہ عصبیت اختیار کی ہے اس سے چھوٹے ہی اخبارات زیادہ متاثر ہوئے۔مگر اس کے نتیجہ میں بعض بڑے صحافی معاشی تنگی کا شکار ہوگئے۔۔۔

سلیم صدیقی کی عمرکوئی زیادہ نہیں تھی۔وہ شاید 55برس کے تھے۔وہ دل کے عارضہ میں مبتلا تھے ۔انہیں گزشتہ روزگروتیغ بہادرہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں آج شام انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ان کی اہلیہ تو چند برس قبل ہی ان کا ساتھ چھوڑ گئی تھیں۔کبھی کبھی یار دوست جمع ہوتے تو کہتے تھے کہ۔۔۔۔ بتاؤسلیم بھائی کا’ کھٹکا‘ لگا رہتا تھا لیکن ان سے پہلے ان کی اہلیہ چلی گئی۔وہ اپنی بیوی سے بہت انسیت رکھتے تھے۔ان کے انتقال کے چند ماہ بعد میں نے ان سے کہا تھاکہ سلیم میاں اپنی دومعصوم بچیوں کیلئے ایک عدد ماں کا انتظام کردو۔جواب دیا تھا کہ ’’یارساجد صاحب اپنی بچیوں کے لئے تو میں ہی کافی ہوں۔رہی میری بات تو مجھے اپنی بیوی کے جانے کے بعداب کسی کی ضرورت نہیں۔۔‘اب کوئی نہیں بھاتا’‘…
سلیم صدیقی صحافت کے ساتھ ساتھ شاعری بھی کرتے تھے۔چند ماہ قبل ان کے تازہ شعری مجموعے ’’تمہارے بعد‘‘کی بھی رسم اجراء انجام دی گئی تھی۔یہ شعری مجموعہ انہوں نے اپنی مرحومہ بیوی کے نام منسوب کیا تھا۔۔۔۔انہوں نے رسم اجراء کے دوران اپنی مرحومہ بیوی کے نام ایک شعر بھی سنایا تھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ تمہارے بعد کوئی نہیں بھایا ۔۔۔۔۔۔
وہ ایک قلندر صفت شاعر تھے اور مشاعروں میں شرکت کیلئے لابنگ کے قائل نہیں تھے۔لیکن ایسے وقت میں جب اپنی دو بچیوں کے وہی باپ تھے اور وہی ماں تھے فکر روزگار نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا۔مجھے اس واقعہ کا بہت دکھ ہے جب سلیم نے آخری بار فون کیا تھا۔۔۔۔دہلی اردو اکیڈمی ہرسال لال قلعہ کے سبزہ زار میں جشن جمہوریت کا مشاعرہ کراتی ہے۔اس میں دستور کے مطابق دہلی کے شعراء کو نسبتاً زیادہ موقع دیا جاتا ہے۔مجھے پچھلے سال کے اواخر میں نئی تشکیل شدہ گورننگ کونسل میں شامل کیا گیا ہے۔لہذا سلیم صدیقی نے مجھے فون کرکے کہا کہ مجھے لال قلعہ کا مشاعرہ پڑھنا ہے۔میں نے کہا کہ میٹنگ ہوگی تو ضرور تمہارا نا م تجویز کروں گا۔لیکن مشاعرہ ہوگیا اور سلیم صدیقی ناراض ہوگئے۔انہوں نے 11 جنوری کی شام تین بجے فون کرکے کہا کہ ’’دیکھ لیا‘دوست بھی اب کسی کام کے نہیں رہے۔‘‘میں نے کہا کہ سلیم بھائی میٹنگ ہی نہیں ہوئی‘اور کوئی بات نہیں اگلے سال پڑھ لینا۔مرحوم سلیم نے جوجواب دیا اس نے مجھے کئی دن تک سونے نہ دیا۔انہوں نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا کہ ’’پڑھنے کا شوق اب کسے ہے‘مجھے کچھ پیسے مل جاتے‘‘۔

  • 2
    Shares
  • 2
    Shares