Select your Top Menu from wp menus

آہ ! انور جلال پوری مرحوم تخیل کی سلطنت کا عظیم شہنشاہ چلا گیا

آہ ! انور جلال پوری مرحوم تخیل کی سلطنت کا عظیم شہنشاہ چلا گیا

ڈاکٹر محمد ثاقب ،لکھنؤ
دنیاآنی جانی ہے ،جو بھی یہاں آیا ہے اسے خالق ومالک کی جانب سے عطاکردہ مدت حیات پوری کرکے دار فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کرنا ہے۔یہی نظام کائنات ہے اور اسی نظام کے تحت لاکھوں برس سے آباد انسانی دنیا میں آمدو رخصت کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور قیامت تک خالق کائنات کا بنایا ہوایہ نظام اسی طرح جاری رہے گا۔مگر بقول شاعر ؂
موت اس کی کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کیلئے
گزشتہ2جنوری 2018کو سال نو کے جشن کو اردوادب کے جس کوہ گراں کی رحلت نے ماتم میں تبدیل کردیا وہ شخصیت تھی جناب انور جلال پوری کی۔دنیائے شعروادب خصوصاً مشاعروں کی عظمت ووقارکی ضمانت باور کئے جانے والے ادیب اورادب کو برائے معاشرہ سازی استعمال کرنے اور برتنے کے ہنر سے آراستہ مثالی شخصیت تھی انور جلا پوری ۔انہوں نے ایک طرف سیرت و مناقب صحابہ کی منظوم تاریخ مرتب کی تو دوسری جانب ہندو مذہب کی مقدس کتاب کا اردو میں منظوم ترجمہ کرکے ساری دنیاکو یہ پیغام دیا کہ اس قسم کے مثالی کارناموں کے ذریعہ منتشر قوموں کو ایک دوسرے کے قریب کیا جا سکتاہے ۔مرحوم کی وفات کی خبر لکھتے ہوئے بیشتر صحافتی ادا رو ں نے انہیں شاعر سے زیادہ ناظم مشاعرہ کے ایک عہد کے خاتمہ کے طور پر خراج عقیدت پیش کیاہے اور لکھاہے کہ اردو کے معروف شاعر اور ناظم مشاعرہ انور جلال پوری کا انتقال ہو گیا۔ انور جلال پوری کے انتقال سے اردو دنیا میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی ان کی ایک بیٹی کا انگلینڈ میں انتقال ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ بے حد مغموم تھے۔ انور جلا پوری نے بھگوت گیتا کا ترجمہ اردو میں کیا تھا۔ انھوں نے اپنے اس ترجمے کواردو شاعری میں ’گیتا‘ کا نام دیا ہے۔ انور جلال پوری اس سے پہلے رابندر ناتھ ٹیگور کی ’گیتانجلی‘ اور عمر خیام کی ’رباعیات‘ کا بھی اردو میں ترجمہ کرچکے ہیں۔ انور جلال پوری کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ ترجمہ دونوں زبانوں ہندی اور اردو جاننے والوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیاہے۔اردو کے مشہور ادیب شارب ردولوی کہتے ہیں کہ’’ انور جلال پوری بہترین شاعر اور ناظم کے علاوہ ایک لاجواب انسان تھے۔ ان کی رحلت حسرت آیااردو کے ساتھ ساتھ انسانیت کا بھی بڑاخسا رہ ہے‘‘۔ہم نے اپنی تحریر کے ابتدامیں ہی شارب ردولوی کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے لکھاہے کہ انور جلال پوری صرف شاعر یا ناظم مشاعرہ ہی نہیں تھے ،بلکہ ان کی ادبی تخلیقات اس بات کا بھرثبوت دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنی نظموں اور غزلوں کے ذریعہ آدم گری، کردار سازی اور معاشرہ کی اصلاح کا مجاہدانہ کارنامہ انجام دیاہے۔اس حوالے سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ؂
کوئی پوچھے گا جس دن واقعی یہ زندگی کیا ہے
زمیں سے ایک مٹھی خاک لے کر ہم اڑادیں گے

جلائے ہیں دیے تو پھر ہواؤں پر نظر رکھو
یہ جھونکے ایک پل میں سب چراغوں کو بجھادیں گے

نہ جانے کیوں ادھوری ہی مجھے تصویر جچتی ہے
میں کاغذ ہاتھ میں لے کر فقط چہرہ بناتا ہوں

میں اپنے ساتھ رکھتاہوں سدا اخلاق کا پارس
اسی پتھر سے مٹی چھوکے میں سونابناتا ہوں

مرحوم نرے اردوزبان کے ہی ماہرنہیں تھے ،بلکہ وہ انگریزی، فارسی اور ہندی زبان اچھی طرح جانتے تھے اورانہیں برتنے کا خوبصورت ہنر بھی جانتے تھے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مشاعروں کی مجلس میں ناظم مشاعرہ کی اہمیت ٹیم کے کیپٹن کی ہوتی ہے ،جس طرح کیپٹن کے اندر یہ صلاحیت ہونی ضروری ہے کہ وہ اپنے کس کھلاڑی کو کہاں استعمال کرکے ٹیم کوکامیابی سے ہمکنار کرنے کی مہارت رکھتا ہو۔ٹھیک اسی طرح شعرو شاعری کی محفل کو کامیاب و کامران بنانے کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کے اندر وہ خوبی ہوکہ کس مقام پر کس شاعر کو کھڑا کرنا ہے اور اس کے اندر یہ خوبی بھی ہونی ضروری ہے کہ پھوہڑ سامعین کی ہوٹنگ سے مشاعرے کی بے ہنگمی کواپنے الفاظ و خطابات کے جادو چلاکر کیسے باہر نکال لایا جائے،جب ہم مرحوم انور جلال پوری کی مشاعروں کی نظامت کے طویل ترین سفرپر نظرو دوڑاتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ وہ نہ صرف اپنے الفاظ و معانی کے بے انتہا خزانے سے لبریز تھے ،بلکہ حاضری اور سامعین کی جانب سے اٹھائی جانے والی آوازوں اور شورو غوغا کو ایک قابل وفائق استاذ کی طرح سمجھا بجھاکر مشاعرہ پر سناٹا طاری کرکے شاعر کو اپنے کلام سنانے کیلئے پرسکون ماحول دستیاب کرانے ہمیشہ کامیاب رہتے تھے۔ناظم مشاعرہ کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ دوران نظامت پرلطف محاوروں اور مہذب انداز بیان سے مشاعروں میں رنگ بھرنے کا کام جانتا ہواور خوش گپیوں میں ڈوبے آہنگ و رنگ سے محفل قہقہ زار بنانے میں ماہر اور حاضر جواب ہونے کے ساتھ کسی بھی سوال کا جواب دینے کیلئے جملوں اور نثری تقریروں کے بجائے فی البدیہ اور برموقع اشعار سناکر سائل مبہوت کرسکے۔مرحوم انور جلا پوری کی رحلت کے بعد اگر ہر ادیب وشاعر اور ماہر لسانیات انہیں ایک کامیاب ناظم مشاعرکے طور پر یاد کرکے افسوس کا اظہار کررہا ہے تو اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ یقیناوہ اس خارزاروادی کے ایک کامیاب مسافر تھے۔
پرو فیسر ارتضی کریم نے مرحوم کے بارے میں بجاکہا ہے کہ ’’نقیب مشاعرہ انور جلال پوری کی رحلت سے اردو دنیا اس جلال و جمال سے محروم ہوگئی جو ان کی شخصیت کا لاینفک حصہ تھے۔ان کا انتقال اردو شعر و سخن کا ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے۔ انور جلال پوری نے اپنی جادوئی نظامت سے جہاں سامعین کے دلوں کو مسخر کیا وہیں اپنی شاعری کے ذریعے ایک بڑے طبقے کو اپنا اسیر بنایا‘‘۔
مرحوم کی غزلوں ،نظموں اور دیگر اصناف شعری سے لے کر مشاعروں کی نظامت کے دورارن بیان کئے طنزو مزاح میں بھی تخیل کا بحر بے کراں دیکھنے کو ملتاہے ،ورنہ موجودہ وقت میں صورت حال یہ ہے آج کی مجالس،محفلیں اور نشستیں اس بامعنی تخیل سے خالی ہوتی صاف نظر آ رہی ہے ،وہ تخیل جس سے زندگی اور تہذیب و ثقافت کی پوری عما رت ڈھلی ہوتی ہے اور اس کے بغیر صرف لفاظی رہ جاتی ہے ،باقی سبھی ضروری چیزیں زندگی سے رخصت ہوجاتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو چیز انسا ن کی ترکیب میں ایک لازمے کی طرح گندھی ہوئی ہے، وہ تخیّل اور تخیّل کی صلاحیت ہے ،انور جلال پوری اسی تخیل کے عظیم بادشاہ تھے۔آج انسان، یا پورے انسان کی تلاش نہیں، جیسے دیو جانس کلبی کو تھی۔آج صرف اس تخیّل کی تلاش ہے، دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ، انسان جس سے عبارت ہے۔مگر افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں لسانیات کے جن سپہ سالاروں نے دنیاکو خیرآباد کہا ہے ،ان کے بعد ایسا لگنے لگا ہے کہ اب ہم ایک ایسی سرزمین پر زندہ بچیہیں، جہاں سے تخیّل کافور ہوتا جارہا ہے۔یا شا ید ڈر کر کہیں غائب ہوتا جا رہا ہے!
اخبارات، رسائل، ٹی، وی چینلز، فلمیں، ہر میڈیم، جس میں انسانی زندگی اظہار پاتی ہے، تخیّل سے عاری ہو چکا ہے۔ ادب، شاعری، وغیرہ، میں، کہیں اس کے کھنڈرات مل جائیں تو مل جائیں، ورنہ وہاں بھی اس نے جگالی کی صورت اختیار کرلی ہے۔ جوکچھ پہلے لوگ سوچ اورخیال کر گئے، اسے باربار بنا بگاڑ کر سامنے لایا جا رہا ہے۔
مرحوم اپنی تخلیقات کے ذریعہ ملک کی آپسی یکجہتی کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے تھے اور معاشرے میں پھیلی برائیوں اور مذہب کے نام پر پھیلائے جا رہے فتنوں کے بڑے مخالف تھے۔ مرحوم نے گنگا جمنی تہذیب، اور آپسی میل محبت کو دھیان میں رکھتے ہوئے بھگوت گیتا کا منظوم اردو ترجمہ کیا جس سے رہتی دنیا تک لوگ فیض یاب ہونگے اسکے علاوہ مرحوم نےْ راہ رو سے رہنما تک، ایک کتاب لکھی جس کو بہت سراہا گیا۔مرحوم کی رحلت سے فکر و فن، علم و ادب کی دنیا کو بہت نقصان پہنچا ہے ان کی ادبی خدمات رہتی دنیا تک زندہ اور جاوید رہے گی اور پوری دنیا اس سے فیض حاصل کرتی رہے گی،البتہ انکی کمی اب رہتی دنیا تک پوری نہیں کی جا سکتی اورایسا بھی ممکن نہیں لگ رہا ہے کہ ان جیسی شخصیت دنیا میں پھر پیدا ہوگی ،ویسے یہ نظام خداوندی ہے ،وہ چاہے تو دنیائے شعروادب کو مرحوم کے نعم البدل سے نواز سکتا ہے ۔ابھی چند برس پہلے ہی معروف ادیب وشاعر جناب جاوید قمرنیمرحوم انور جلال پوری کاایک مختصر سا نٹرویو لیا تھا ،جس کے ابتدامیں مرحوم کی زندگی اور خدمات نرالے ڈھنگ میں پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ؂
’’انور جلال پوری اردو دنیا کا ایک محبوب اور محترم نام ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ڈاکٹر ملک زادہ منظور کے بعد جس ناظم مشاعرہ نے مشاعروں کی نظامت کے فن کو وقار اور اعتباربخشا،وہ انور جلالپوری کی ہی ذات ہے۔آج اردو دنیا میں جہاں جہاں بولی پڑھی اور سمجھی جاتی ہے لوگ ان کے نام سے واقف ہیں مگر ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اردو والے انور جلالپوری کے دیگر کارناموں اور ادبی خدمات کے دوسرے اہم گوشوں سے بڑی حد تک ناواقف ہیں۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ ایک ممتاز ومنفرد ناظم کے ساتھ ساتھ وہ بہترین شاعر بھی ہیں، لیکن اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود انہو ں نے تصنیف وتالیف کا جو کام کیا ہے اس سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ ان کی اب تک 14کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کتابوں کی فہرست پر نظر ڈالیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تصنیف وتالیف کا سلسلہ کسی مخصوص دائرہ میں قید نہیں ہے۔ ایک طرف اگر وہ ’’بعد از خدا‘‘ کے عنوان سے پیغمبر اسلامؐ کی سیرت کا منظوم ترجمہ کرتے ہیں تو دوسری طرف بھگوت گیتا کا منظوم ترجمہ بھی۔ ’ ’راہرو سے رہنما تک‘‘ کے عنوان سے جہاں وہ خلفائے راشدین کی سیرت کو منظوم کرنے کا کارنامہ انجام دیتے ہیں تو ٹیگور کی مشہور زمانہ تصنیف ’’گیتانجلی‘‘ کا منظوم ترجمہ بھی کرتے ہیں۔ ایک جانب قرآن کے تیسویں پارہ کو منظوم کرتے ہیں توعمر خیام کی رباعیات کے مفہوم کا منظوم ترجمہ بھی پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انور جلالپوری کثیر جہت شخصیت کے مالک ہیں اور تحریر وتقریر دونوں میدانوں میں اپنی انفرادیت اور ذہانت کا سکہ بٹھا رکھا ہے‘‘۔
آخرمیں ہم مرحوم انور جلال پوری کے چند اشعار کے ذریعہ انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
شاداب و شگفتہ کوئی گلشن نہ ملے گا
دل خشک رہا تو کہیں ساون نہ ملے گا

سوتے ہیں بہت چین سے وہ جن کے گھروں میں
مٹی کے علاوہ کوئی برتن نہ ملے گا

اب نام نہیں کام کا قائل ہے زمانہ
اب نام کسی شخص کا راون نہ ملے گا