Select your Top Menu from wp menus

’’پیام صبا‘‘ کا پیام

’’پیام صبا‘‘ کا پیام

بدر محمدی
’’پیام صبا‘‘ کامران غنی صباؔ کا اولین شعری مجموعہ ہے۔ شاعر نے اپنی قافیہ پیمائی کو پیام قرار دیا ہے اسی مناسبت سے مجموعے کا نام ’’پیام صبا‘‘ رکھا ہے۔ لہٰذا ’’پیام صبا‘‘ کا پہلا پیام یہ ہے کہ شاعری پیغام ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر شاعری پیغام ہو۔ جب کسی کی شاعری میں پیغام نہیں ہوتا تو کہا جاتا ہے کہ اس میں کوئی پیغام نہیں اور پیغام ہونے کی صورت میں اس کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ چونکہ کامران غنی صباؔ نے شعری مجموعے کا عنوان ہی دیا ہے ’’پیام صبا‘‘ لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ اس مجموعے کی شاعری میں پیام ہی پیام ہے۔ صبا کا معنی مشرق سے چلنے والی وہ ہوا ہے جو پیغام رسانی کا کام کرتی ہے۔ یہ معنی یہاں بھی لیا جاسکتا ہے مگر یہ شعری مجموعہ بادصبا نہیں صباؔ کا پیام ہے، کامران غنی صباؔ کا…… ہاں یہ ہے کہ کامران غنی خود صبا یعنی صبا صفت ہے اور وہ پیغام رسانی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ جو شخص بیک وقت کامران بھی ہو، غنی بھی اور صبا بھی، اس کی کامرانی، دولت مندی اور پیامبری کا کیا پوچھنا لیکن اس کی پیغام رسانی کی وجہ اور ہی کچھ ہے ؂
میں لمحہ لمحہ پگھل رہا ہوں میں لحظہ لحظہ بکھر رہا ہوں
کوئی تو ان کو پیام دے دے بھروسہ کیا شمع زندگی کا
کامران غنی صباؔ کا غم حیات کتاب کی مانند ہے۔ اس کی داستان ہستی حکایت غم سے لبریز ہے۔ وہ مسکراتا مگر زخم کھائے ہوئے ہے۔ اس کا رونا شبنم کی طرح نہیں۔ طوفاں اٹھانے والا ہے۔ صباؔ درد، غم، مصیبت، جفا سے دل بہلانے والا شاعر ہے۔اس کی شاعری غم دل کی شاعری ہے، درد دل کا اظہار ہے، حکایت درد ہے۔ وہ اپنے درد کو زمیں ہی نہیں آسماں سے یعنی سارے جہاں سے بولتا ہے۔ شاعر راز دل کھولنے کا طرفدار ہے کہ اسے سینے میں رکھنے سے دم گھٹ جاتا ہے۔ صباؔ کا شعری مجموعہ کسی کی شان میں لکھا ہوا قصیدۂ غم ہے جسے وہ ایوان حسن تک پہنچانا چاہتا ہے ؂
اشعار کے پردے میں سناتے ہیں غم دل
*
بے وجہ غزل ہم کو سنانا نہیں آتا
کوئی بھی ذکر مکمل ترے بغیر نہیں
*
ہے صبح و شام زباں پے بس اب وظیفۂ غم
میری دنیا میں بجز کرب رکھا ہی کیا ہے
*
گر مجھے دیکھ لو جینے کی تمنا کرو
غم الفت، شب فرقت، نگاہ یاس اور حسرت
*
صبا تیری رفاقت میں بجز غم کیا ملا مجھ کو
صباؔ کی سخن طرازی آہ و فریاد ہے اور فریاد کی کوئی لے نہیں ہوتی۔ چنانچہ نغمۂ صبا پابند نے نہیں ہے۔ شاعر اپنا پیام لفظوں سے ہی نہیں، آنکھوں سے، آنسوؤں سے بھی بیاں کریم دکھائی دے رہا ہے۔ کامران غنی صباؔ کی پیغام رسانی کا وسیلہ طرز دگر کا ہے ؂
لازم نہیں لفظوں سے ہی اظہار وفا ہو
*
آنکھیں بھی سنا دیتی ہیں پیغام مری جاں
روبرو ان کے اذن تحکم کہاں
*
آنسوؤں کی زباں ہے مری ترجماں
نہیں مرہون منت جرأت اظہار لفظوں کی
*
تری نظروں نے پیغام محبت دے دیا مجھ کو
کیا ہوا لب کو سی دیا بھی اگر
*
خامشی داستاں سنائے گی
’’پیام صبا‘‘ کی شاعری اپنے نام ہی نہیں کام کے اعتبار سے بھی پیام ہے اور یہ پیغامات مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہیں۔ چنانچہ اس شعری مجموعے کا انتساب بھی پیام ہے۔ یہ مجموعہ خدائے برتر کے نام معنون ہے اور اس میں پیغام ہے کہ خدا ذہن کو فکر رسا عطا کرنے والا ، قلم کو وفارعنائیت والا، کلام کو اعتبار بخشنے والا ہے۔ ’’پیام صبا‘‘ کی فہرست بھی ایک پیام ہے۔ یہ پیام تین حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے حصے میں دوسروں کے مضامین ہیں جو ’’پیام صبا‘‘ کے شاعر سے متعلق مشاہیر ادب کے تاثرات یا پیغام پر محیط ہیں۔ پھر یہ کہ کامران غنی صباؔ موضوعاتی شاعری یعنی نظم (پابند اور آزاد نظم) کو ترجیح دینے والا شاعر ہے۔ اور آخری یہ کہ ’’پیام صبا‘‘ کا صبا ؔ حسینۂ غزل کی زلفوں کا برابر کا اسیر ہے۔ اسے نظم و غزل دونوں پر یکساں دسترس حاصل ہے۔ ’’حرف آغاز‘‘ کی اگر بات کی جائے تو اس میں شاعر نے جو باتیں پیش کی ہیں ان میں بھی بہت سارے پیغامات ہیں مثلاً :
’’شاعری محبت کا دوسرا روپ ہے جس طرح محبت کا تعلق روح سے ہے۔ اسی طرح شاعری کا تعلق بھی روح سے ہے ۔ شاعری وکھائی نہیں جاسکتی ہاں مشق سے سنواری جاسکتی ہے ……………. شاعری صرف سچی اور فطری شاعری ہوتی ہے۔ جو دل سے دل میں اترتی ہے۔ شاعری نہ تو نری نعرے بازی کا نام ہے اور نہ ہی معمد سازی کا۔‘‘
’’حرف آغاز‘‘ کی تحریر میں یہ بھی پیغام ہے کہ کامران کی شاعر ی کو مشق، اساتذہ کرام شعراء ، احباب اور عام سامعین کی حوصلہ افزائیوں نے اعتماد فراہم کیا ہے۔’’پیام صبا‘‘ کی تقریظ کے سارے مضامین کامران کی شہرۂ آفاق نظم ’’مجھے آزاد ہونا ہے‘‘ سے متعلق ہیں۔ لہٰذا اس نظم کو اولیت دینی تھی۔ شاید اسی وجہ سے صباؔ نے مجموعے میں غزلوں سے قبل نظم کو جگہ دی، جو عام طور پر نہیں ہوتا۔ جہاں تک نظم ’’مجھے آزاد ہونا ہے‘‘ کی بات ہے، اس کے اسلوب بیاں اور طرز ادا کا یہ کمال ہے کہ قلم کاروں نے مختلف زاویے سے اس کی تشریح کی ہے اس کے گونا گوں پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ اس نظم میں شاعر نے بیزاری کا اظہار کیا ہے، زندگی کے سارے شعبوں سے بیزاری کا، مگر وہ خود سارے شعبوں میں نہیں تو ادب، صحافت، درس و تدریس سمیت کئی شعبوں میں سرگرم کار ہے۔ نام و نمود کی دنیا میں وہ بھی ہے جبکہ نام و نمود سے آلودزندگی اسے قبول نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ شاعر کو یا تو شہرت کی للک ہے یا پھر صلاحیت کی بنیاد پر یہ خدمات انجام دے رہا ہے، یا پھر یہ کہ یہ سب کرنا اس کی مجبوری ہے۔ نظم ’’مجھے آزاد ہونا ہے‘‘ کا دو حصہ کیاجائے تو پہلے حصّے میں سوچ کی صورت نظر آتی ہے اور دوسرے میں چاہ کی کیفیت۔ سوچ کا لگاؤ دماغ سے ہے اور چاہ کا تعلق دل سے۔ اس طرح یہ نظم دل اور دماغ دونوں سے علاقہ رکھتی ہے۔ اس نظم میں پریشانیوں کا ذکر بھی ہے اور اس کا حل بھی، حل یہ کہ شاعرآزاد ہونا چاہتا ہے، اسے خواہش، رعنائی اور نمائش سے آزادی کی چاہت ہے۔
اپنی نظموں میں کامران نے واقعات کو محسوسات کا روپ دیا ہے۔ نظم ’’فنا آغوش‘‘ اور ’’وہ شمع اب خموش ہے‘‘ بھی پیام سے مملو ہیں مگر یہ نظمیں ’’امی کے نام‘‘ ’’جنت کے پھول‘‘ ’’ہمارے گھر کو خطرہ‘‘ ’’بابری مسجد‘‘ ’’میرے مولا تو نئے سال پر رحمت کردے‘‘ ’’کاش اپنی بھی محبت کو معراج ملے‘‘ ’’محبت اک عبادت ہے‘‘ ’’اہل محبت کا پیغام‘‘ جیسی نظموں کی طرح وقتی موضوعات سے متاثر ہو کر لکھی ہوئی نہیں ہیں۔اول الذکر نظموں میں بے ثباتئ عالم کی ترجمانی ہے تو موخر الذکر نظموں میں سچائی کی راہوں میں ساتھ چلنے، ایک رہنے کا پیام ہے۔ ’’پیام صبا‘‘ کی نظموں میں مجموعی طور پر جو پیغامات پیش کئے گئے ہیں وہ اس طرح ہیں:۔
*آدمی کا وجود غم کا شناسا اور راز و فا ہوتا ہے۔
*محبت رسم و راہ اور قربت کا نام نہیں مراسم ختم ہونے سے محبت ختم نہیں ہوتی محبت جاوداں رہتی ہے۔
*محبت ایک عبادت ہے عبادت میں تصنع ٹھیک نہیں۔
*محبت اور عبادت میں نمائش نہیں ہوتی۔ محبت کے لئے کوئی دن مخصوص نہیں کیا جاسکتا۔
*یاد رسم و فا نہیں، یاد باد صبا نہیں۔ ترک تعلق کے بعد یا د مٹتی نہیں اور فزوں ہوتی ہے۔
*عید کا چاند درد والوں کے لئے زخم ہے۔
*پھول باغ میں ہی اچھے لگتے ہیں۔
*معصوم مزاجی اچھی نہیں آدمی کو تیز طرار ہونا چاہئے۔
شاعر نے معصوم مزاج نہیں تیز طرار ہونے کی بات کی ہے اور دوسری طرف آزاد ہونا بھی چاہا ہے۔ اس معنی میں ’’پیام صبا‘‘ خار خار گلاب ہے۔ اپنی ایک نظم میں صباؔ نے احمد کو اپنا نام شنکر بتانے کی ہدایت دی ہے تو کیا اسے بھی شاعر کے آزاد ہونے سے جوڑ کر دیکھا جائے۔ کامران غنی کا یہ مصرع بھی قابل اعتراض ہے کہ ’’محبت کرنے والے تو خدا سے بھی نہیں ڈرتے‘‘۔ اگر ایسا ہے تو پھر اس قول پر حرف آتا ہے کہ ’’ جو خدا سے ڈرتا ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا اور جو خدا سے نہیں ڈرتا وہ سب سے ڈرتا ہے۔‘‘
اپنی غزلیہ شاعری میں کامران غنی صباؔ نے اہل سیاست کے کاموں سے سروکار نہیں رکھا ہے بلکہ ’’میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے‘‘ کی تبلیغ کی ہے۔ محبت کا تعلق روح سے ہے اور شاعری کا تعلق بھی رو ح سے ہے لہٰذا محبت اور شاعری کا ہم رشتہ ہونا ناگزیر ہے۔ کامران کی غزلوں میں معاملات محبت کا والہانہ اظہار ہے۔ شاعر نے محبت کی پر کیف فضا میں مفہوم محبت کو واضح کیا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ محبت کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ محبت بے وجہ ہوتی ہے۔ امتحاں نہیں تو محبت کیا ۔ فروخت ہی محبت کا انجام ہے۔ دوران محبت نظر سے راز فاش ہوتا ہے اور نظر یں بدل بھی جاتی ہیں۔ دنیائے محبت میں آنکھیں اپنی آنسو پرائے ہوتے ہیں یا پھر یوں کہا جائے کہ دوسرے کی پلکوں پر اپنے خواب سجانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ روتی آنکھیں مصروف عبادت ہوتی ہیں۔ باوضوع آنکھوں میں یاد کے جگنو ہوتے ہیں۔ ترک تعلقات کے بعد بھی انتظار ہوتا ہے۔ بھولے ہوئے کی یاد ولولے سے آتی ہے لہٰذا شاعراشکوں سے یاد کا دیپ بجھانا نہیں چاہتا جو دل کی دہلیز پر روشن ہے ؂
فرق کچھ بھی نہیں گر سمجھ لیجئے
*
عاشقی بندگی، بندگی عاشقی
کبھی ہنسنا کبھی رونا کبھی آہیں بھرنا
*
صاف کیوں کہتے نہیں عشق ہوا ہے کیا ہے
مرا سوال کہ کس نے مجھے تباہ کیا
*
ترا سکوت مکمل جواب کی مانند
مرے جذب محبت کا خدا را امتحاں مت لے
*
قسم تیری جفاؤں کی نہیں تاب جفا مجھ کو
’’پیام صبا‘‘ کا شاعر نوجواں ہے۔ جواں دل، جواں مرد ہے۔ اس کی رگوں میں جواں خون دوڑ رہا ہے۔ لہٰذا اس کے پیام میں جوانمردی کی باتیں ہیں۔ کامران غنی صباؔ خود بھی باہمّت اور حوصلہ مند ہے اور دوسروں کو بھی ہمت و حوصلہ کا درس دے رہا ہے، وہ بزدل نہیں ہتھیلیوں پر سروں کو سجائے ہوئے ہے۔ صباؔ حرکت و حرارت کی ترغیب دے رہا ہے۔ وہ انقلاب اور انقلاب کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے ؂
چاہتے سب ہیں زمانے میں تغیر آئے
*
کوئی تیار نہیں خود کو بدلنے کے لئے
حوصلہ ہے تو تلاطم کے مقابل آؤ
*
لب ساحل پہ کھڑے ہو کے تماشا نہ کرو
احسان نا خدا کا اٹھاتے کہاں تک
*
لے کر خدا کا نام بھنور میں اتر گئے
کامران نے اپنے شعروں میں موت کو بھی یاد کیا ہے اور موت کو یاد کر کے زندگی کی اصلیت جاننے کی کوشش کی ہے، موت ہر زندگی کا انجام ہے۔ زندگی دراصل منزلِ مرگ تک رسائی کا سفر ہے۔ موت سے کسی کی رستگاری نہیں۔ زندگی اور موت کی جنگ میں زندگی ہار جاتی ہے ۔ آدمی عمر بھر سرگرم عمل رہتا ہے۔ اسے آرام مٹی کی ردا اوڑھنے کے بعد ہی ملتا ہے۔صباؔ نے اپنی نظم ’’فنا آغوش‘‘ کی مختصر اور جامع ترجمانی غزلوں میں یوں کی ہے ؂
جانے کیوں ڈرتے ہیں سب لوگ فنا سے
*
سچ تو یہ ہے کہ سبھی جیتے ہیں مرنے کے لئے
دنیا نہیں دے گی یہ یقیں ہے کہ ملے گا
*
مٹی کی ردا اوڑھ کے آرام مری جاں
مجھ کو معلوم ہے آزماتے ہوئے
*
ہار جائے گی اک دن مری زندگی
مختلف شعبہ حیات سے وابستگی کے باعث کامران غنی صباؔ کے پاس شاعری کے مواد بہت ہیں۔ اس نے اپنی باتوں کو طرح طرح سے پیش کیاہے۔ اس ضمن میں شاعر نے ’’بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر‘‘ کی راہ اختیار کی ہے۔ صباؔ نے شراب، ساقی اور میکدے کا ذکر کیا ہے مگر اشعار کے طور پر لہٰذا شعر کے ظاہری معنی کے مقابلے باطنی معنی زیادہ معنی خیز ہے ؂
راز ہم سارے زمانے سے چھپائے ہوئے ہیں
*
آپ کی آنکھوں سے کئی جام پلائے ہوئے ہیں
بادہ آشام ترے نام مری شام تمام
*
تو نے مجھ کو غم دنیا سے بچا رکھا ہے
نہ جانے کہہ دیا کس بے خودی میں ساقی نے
*
سرور تشنہ ہی ہے شراب کی مانند
’’پیام صبا‘‘ کامران غنی صباؔ کی اب تک کی پوری شاعری کا مجموعہ نہیں اس کا انتخاب ہے۔ اس میں غزلوں کی تعداد زیادہ ہے اور نہ غزلوں میں شعروں کی تعداد۔ البتہ غزلیں، نظموں کے مقابلے کچھ زیادہ ہیں۔ غزلوں کی بحر یں لمبی بھی ہیں اور چھوٹی بھی مگر ان میں بیان کی گئیں باتیں معتدل ہیں اور اس اعتدال میں جامعیت اور غنائیت ہے۔ کسی غزل میں چونکانے والی ردیف یا قافیہ نہیں۔ تاہم شاعری دامن کش دل ہے۔کیونکہ اس میں عزم ہے، ایماں ہے، انا ہے، اور کیا کیا ہے ملاحظہ فرمائیں ؂
تلمیح:
ہماری فتح یقینی تھی معرکوں میں مگر
*
جلانے والا ہمیں کوئی کشتیاں نہ ملا
حالات حاضرہ:
وحشتیں دیکھ کے ہر سمت تری دنیا کی
*
روح بے چین سی ہے تن سے نکلنے کے لئے
خودداری:
پیاس سے جان جاتی ہے جاتی رہے
*
سر پٹکتی نہیں میری تشنہ لبی
انانیت:
شاید اسے ہماری انا کا گماں نہ تھا
*
ہم تشنگی پٹک کے سمندر میں آئے ہیں
حق پسندی:
ہاں یہ منظور ہے نیزے پہ سجا دو لیکن

سر جھکے گا نہیں باطل کی حمایت کیسی
بیباکی:
وہ بھی ہم کو دیکھ کے حیران رہ گیا

مقتل میں سر کے بل گئے اور بے خطر گئے
طنز:
تم رات گئے کس کو پکارو ہو سر راہ
*
دن میں بھی یہاں کوئی مسیحا نہیں آتا
صباؔ کا پیام صرف فکری نہج پر نہیں فنی سطح پر بھی ہے۔ شاعر نے صفتوں کے برتنے میں فنی چابکدستی کا ثبوت دیا ہے کہ سجدۂ شوق نماز ہجر، جرأت التجا، اذن تکلم، معصوم تبسم، زخم تمنا، تاب حنا، ایوان حسن، کشکول طلب، صحیفۂ غم، بازار زیست جیسی تراکیب کا ہنر مندانہ استعمال کیا ہے۔ صباؔ نے استعارے سے بھی خوب استفادہ کیا ہے۔ اس کے یہاں زمیں پر شبنم کا قطرہ قطرہ روشنی کا استعارہ ہے۔ استعارے اور بھی ہیں مگر آئینہ کا استعارہ بالخصوص اہمیت کا حامل ہے۔ آئینہ کے سچ بولنے، آئینہ دکھانے اور آئینہ کے حیران ہونے کی بات شاعر نے کی ہے۔ صباؔ کے نزدیک خواب، دل، امید، آئینہ ٹوٹنے والی شے ہے اور وہ اس کی حفاظت کرنا نہیں چاہتا ؂
سچ نہیں بولنے کی سب نے قسم کھائی ہے
*
آئینہ جھوٹ اگر بولے تو حیرت کیسی
آئینہ ٹوٹ کے ہو جائے گا ریزہ ریزہ
*
تم مجھے دیکھ کے آئینے کو دیکھا نہ کرو
آئینے میں کس کو دیکھتے رہتے ہو
*
میری آنکھوں میں بھی تم دیکھو نا
’’پیام صبا‘‘ کی شاعری میں لہجہ اور انداز بیاں کی انفرادیت کئی وجہوں سے ہے۔ اس کی ایک نمایاں وجہ استفہامیہ رنگ و آہنگ ہے۔ صباؔ نے سوالیہ الفاظ کہاں ، کون، کس، کتنا، کیوں، کب، کیسے، کیا سے خوب خوب کام لیا ہے۔ مثلاً کہاں تک بھاگ پاؤگے۔کہاں کس کو پکارو گے۔ ’’زندگی کتنا آزمائے گی‘‘ میں کیسے بھول پاؤں گا‘‘ ’’میں آپ کو کونسا تحفہ دوں‘‘ ’’ہم بھلا عید منائیں تو منائیں کیسے‘‘ ’’یاد کیا رسم وفا ہے جو بھلادی جائے‘‘ ’’یاد نہیں باد صبا ہے کہ کبھی آئے نہ آئے‘‘ ’’امن کے سب پیمبر کہاں کھو گئے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ استفہامیہ اسلوب بیاں سے مضمون کی ادائے گی میں مدد ملی ہے اور بات کہنا زیادہ وقیع ہوا ہے۔ تہہ داری پیدا کرنے کا یہ انداز سخن ’’ پیام صبا‘‘ کی نظم اور غزل دونوں میں ہے نظمیہ حصے کی شروعات سوال سے ہوئی ہے اور غزلیہ حصے کا آغاز بھی سوال سے ہوا ہے ؂
ہر شخص ہے کیوں لرزہ بر اندام مری جاں
*
وہ کیا ہے کوئی نمازئ اسلام مری جاں
درد جی میں نہ ہوا اس دل کی حقیقت کیسی
*
ہجر کا غم ہی نہیں ہو تو محبت کیسی
سجدۂ شوق میں سر میرا جھکا ہے کیا ہے
*
کوئی تصویر ہے مورت ہے خدا ہے کیا ہے
تمہیں بتاؤں کہ کس مشغلے سے آئی ہے
*
مری نظر میں چمک رنجگے سے آئی ہے
صباؔ کی شاعری کی ایک خصوصیت رشتے کی پاسداری بھی ہے۔ خدا اور بندے کا رشتہ، ماں اور بیٹے کا رشتہ، باپ اور بیٹے کارشتہ، عاشق و محبوب کا رشتہ وغیر ہ وغیرہ۔ ’’پیام صبا‘‘ میں جہاں بیٹے کے لئے ماں کا پیام ہے۔ ماں کے نام بیٹے کا بھی پیام ہے۔ شاعر موصوف کی والدہ محترمہ سلمیٰ بلخی نے اپنی مختصر تحریر میں اس مجموعے کی اشاعت کو اپنی خوش نصیبی سے تعبیر کیا ہے۔ کامران کی سعادت مندی اور بلند ہمتی کا ذکر کرتے ہوئے فرط مسرت سے لبریز ہو کر انہوں نے مزید کامیابی کی دعائیں دی ہیں۔ دوسری جانب کامران نے ایک نظم ’’امی کے نام‘‘ لکھی ہے جو ماں کی سالگرہ پر بیٹے کی طرف سے دیا گیا حسیں اور پروقار لفظوں کا تحفہ ہے۔ صباؔ نے ایک نظم بعنوان ’’ایک باپ کی بیٹے کو نصیحت‘‘ بھی لکھی ہے۔ دلوں کے رشتے کو کامران نے اس طرح استوار کیا ہے کہ اس کی شاعری میں پیغام وفا سا ہے وہ بھی معصوم تبسم کی شکل میں۔ صباؔ کی شاعری میں انداز تخاطب نے بھی خاصا کردار ادا کیا ہے ۔وہ اپنی شاعری میں شاعروں، صوفیوں، عقل والوں سمیت بہت سارے افراد سے مخاطب ہے۔
کامران کی شاعری کے دلدادہ ناصح بھی ہیں۔ اس کی غزلیں کانوں میں رس گھولنے والی ہیں۔ وہ آنکھوں میں اترنے کے ہنر سے آشنا ہے۔ اس کے دل کے جزیرے میں ابال سا ہے۔ اس نے چراغ لہو سے جلائے ہیں۔ صباؔ دوسروں کے احساسات کو سمجھتا ہے کہ اسے اپنے اندر جھانکنا آتا ہے ۔ اہل جوش جنوں کی طرح وہ ہر حال میں خوش ہے۔ شاعر نے ہمیں آئینہ دکھا یا ہے اپنا پیام دیا ہے۔ صباؔ کی غزلیں اچھی ہیں یا نظمیں یہ فیصلہ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ اس کے شاعرانہ مقام کے تعین میں ابھی دیر ہے مگر اتنا ضرور ہے کہ ’’پیام صبا‘‘ اس کے خوش آئند مستقبل کا پتہ دے رہا ہے۔ اس کی شاعری عشق کی بھیک ہے۔ بھیک ایسی ہے تو پھر تحفہ کیسا ہوگا۔ اس سے مطلب نہیں کہ شاعر کا خاندانی پس منظر کیا ہے وہ کس میدان میں سرگرم ہے بلکہ اس سے سروکار ہے کہ کوئی شاعر ہے تو شاعری کی دنیا میں کتنا کامیاب ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ صباؔ کی شاعری میں جادو ہے۔ نشہ ہے، رخ معتبر کا رنگ ہے۔ عصری آگہی، متنوع خیالات ، روایت پسندی، جدت طرازی، بالیدہ شعور نے کامران کی شاعری کو توجہ طلب بنایا ہے۔ میں تازہ کار مگر پختہ شاعر، حساس اور با ہنر فنکار کو ’’پیام صبا‘‘ جیسے شاندار آغاز پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے اس سے مسلسل پرواز کی امید ہے کہ اس کے سامنے ابھی اور بھی آسماں ہیں۔ ***

  • 1
    Share
  • 1
    Share