Select your Top Menu from wp menus

“گھر کو لگی آگ گھر ہی کے چراغ سے” یا “خدا مہربان تو گدھا پہلوان”

“گھر کو لگی آگ گھر ہی کے چراغ سے” یا “خدا مہربان تو گدھا پہلوان”
نقاش نائطی
دشمن کی صلاحیتوں کا اظہار، ادراک حقیقت کا بہترین نمونہ ہوتا ہے.
مودی جی کی حسن کارسازی نے بالآخر مسلم پرسنل لاء بورڈ کو پهوٹ کا شکار بنا ہی لیا.
تاریخ اسلام شاہد ہے قوموں کی تباہی، بیرونی یلغار عدو کے مقابل اپنے ہی حکمراں سے نالاں، اپنی اندرونی صفحوں میں بے چینی، اپنوں کے بھیس میں دشمنوں کے لئے کام کرنے والے بےوفاؤں کی موجودگی نے  ہمیں، ہمیشہ چاروں خانے چت ہونے پر مجبور کیا ہے. چاہے وہ لکھنؤ کے نواب سراج الدولہ ہوں یا میسور کے راجہ ٹیپو سلطان کے معتمد خاص میر صادق میر عثمان ہی ان مسلم حکومتوں کی شکشت کے ذمہ دار تھے یاکہ والی مکہ و مدینہ ہی کی صورت شاہ حسین اردن (گورنر خلافت عثمانیہ)، خلافت عثمانیہ کے زوال کے ذمہ دار تھے
نوے کے دہے میں لڑی گئی  حرب عرب میں سقوط بغداد کے پیچھے بھی صدام کے معتمد خاص ذمہ داروں کا امریکہ کیلئے وفا داری نبهانا ہے.
فی زمانہ حرب، براہ راست تیغ و تلوار کے بجائے افواج عدو میں اپنے وفادار تلاش کر،انہیں اندر سے کھوکھلا کرنا، اب فن مہارت حرب جدید کا ایک جزء لاینفک مانا جارہا یے. اور اس فن کے ماہر انگریزوں کے چیلے، وعدہ معاف گواہ چڈی دھارک، قاتل گاندھی کو اپنا پیشوا ماننے والے تانے دشمن ہم مسلموں کی صفحوں میں دراڑ ڈالنے کی تاک میں رہتے ہیں. فیس بک اور دیگر سائیبر میڈیا پر عالمی دہشت گرد تنظیموں سے ربط و فکری قربت رکھنے والے تعلیم یافتگان کو پھانس کر، انہیں مجبور و محبوس کر، اپنے ہی لوگوں کے خلاف انہیں استعمال کرنے میں یہود و ہنود کی تحقیقاتی ایجنسیاں ید طولی رکھتی ہیں،جس کی بے شمار مثالیں طول و عرض ہند میں ملتی ہیں. لیکن ملک کے موقر عالم دین حسینی خاندان کے چشم و چراغ، حضرت مولانا سلمان ندوی دامت برکاتہم کو، بغدادی کو خلیفہ المسلمین قرار دینے کے جرم عظیم پر، اتنے طویل عرصے تک حکومتی ایجنسیوں کی خموشی بعد، اچانک مسلم پرسنل لاء بورڈ کی صفحوں میں دراڑ ڈلواتے ہوئے ، ستر سال سے التوا میں پڑے بابری مسجد زمین ملکیت تنازع پر، قانون مطابق فیصلہ دے کر زمین کھونے کے ڈر یا انصاف کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں کو بابری مسجد زمین سے بے دخل کرنے جیسے فیصلہ صادر کر، سپریم کورٹ کے مجروح ہوتے وقار کو بچانے کے لئے، حضرت مولانا کو جس خوبصورتی سے استعمال کیا گیا ہے، سازشی ذہن 56 آنچ کے مودی جی کی تعریف  کئے بنا ہم نہیں رہ سکتے. زعفرانی اذہان کی یہ کامیاب سازش،  جہاں ہم مسلمین  کے لئے  مختلف الجھتی  نقصان دہ ہے وہیں پر انکے کاروان نفرت کی نیا کو 2019 عام انتخاب  پار لگانے کی ایک کامیاب کوشش بهی یے.
“خدا مہربان تو گدھا پہلوان” آرایس ایس بی جے پی مودی بریگیڈ اپنے چار سالہ رام راجیہ مثالی حکومت کے معاشی، معاشرتی، سیاسی ہر محاذ پر ناکام ہوتے وقت میں وقت کے بڑے عالم دین، استادوں کے استاد ، صاحب بصیرت ، شباب مسلم کے دلوں کی دهڑکن، فصیح و بلیغ خطیب وقت کا یوں دشمنان اسلام کی سازشوں کا شکار ہونا،ہم مسلمان ہند کے لئے ایک تازیانہ عبرت ہے. داعش سربراہ ابوبکر بغدادی کو خلیفہ المسلمین تسلیم کرنے ، شام پر حملے کی صورت رضاکار بھیجنے کے اعلان علاوہ،  دفاع آئمہ اربعہ کے بہانے سے ،  اپنے حوارین کی وقتی واہ واہی وصول کرنےکی خاطر ، داعیان حق کے خلاف قابل گردن زد کے فتوے علی الاعلان جاری کرنا ، اور  شاہان حرمین شریفین کے خلاف باغیانہ موقف کے ذریعہ عالم اسلام کی صفحوں میں دراڑ کی کوشش جیسی بعض انجانی لغزشیں حضرت مولانا محترم  سےمرتکب ضرور ہوئی ہیں، لیکن  ملت کی تئین انکے اخلاص سے، اور شباب المسلمین کی اسلامی خطوط آبیاری کی انکی مستقل خدمات سے، ان سے بعض اوصولی اختلاف رکھنے والے ہم جیسے بهی  منکر نہیں ہوسکتے. مسلم دشمن زعفرانی سازشی انتہا والے اس پرفتن دور میں، صرف ایک فیصد سے بهی کم ، ترپل طلاق متاثرە  مسلم طبقہ نسوان کی مدد و نصرت  کے بہانے،ہند میں بسنے والے بیس پچیس کروڑ مسلمانوں کو دستور ہند میں مذہبی آزادی سے جینے کا حق دینے کے باوجود، 99 فیصد مسلمانوں کی شخصی آزادی کے خلاف زبردستی ترپل طلاق قانون مسلمانوں پر نافذ کرنے والے اس پرفتن دور میں، والیان مسلم پرسنل بورڈ کے سامنے، بیس پچیس کروڑ ہندستانی مسلمانوں کو مسلم پرسنل لاء بورڈ پر اعتماد قائم رکھوانے کی عظیم  ذمہ داری  بھی عاید ہوتی یے.اس لئے ہوسکتا یے والیان مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عالی مرتبت بزرگان نے، اپنے حصے بدن پر جراحی کے عمل مصداق،  حضرت شیخ سلمان حسینی پر تادیبی کاروائی اخراج مسلم پرسنل لاءبورڈ کی صورت کیاہو! ایسے میں سائیبر میڈیا پر علم و عمل سے کورے، ہم نابلدوں کی اظہار آراء سے، ہم خود اپنے آپ، امت مسلمہ  کو مجروح کر ریے ہوتے ہیں.  نکتہ چینی  کی ایک انگلی کسی کی طرف اٹھانے سے قبل وە کس کرب کے شکار ہیں اس پر بھی ہم اہل تدبر و تفکر کو سوچنا چاہئیے. اور کس طرح تلافی نقصان اقدام ( ڈیمیج کنٹرول) سے امت مسلمہ ہند کو،سازش یہود و ہنود بچایا جاسکتا یے اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئیے. وما علینا الی البلاغ