Select your Top Menu from wp menus

پولیس کی سختی سے عاجز آئے جرائم پیشہ و مافیا عناصر کوجان بچانا مشکل!

پولیس کی سختی سے عاجز آئے جرائم پیشہ و مافیا عناصر کوجان بچانا مشکل!

ریاست کے نئے ڈی جی پی او پی سنگھ کی نئی حکمت عملی کا نتیجہ
سہارنپور( احمد رضا) دس ماہ کے یوگی اقتدار میں ہمارے نئے ڈائریکٹر جنرل پولیس اوپی سنگھ نے گزشتہ ہفتہ جارج لینے کے بعد سے جس سخت کارکردگی کا مظاہرہ کیا اسکے سبب ریاستی پولیس ہیڈ کواٹر جرائم کنٹرول کے معاملہ میں ان دنوں کافی سنجیدہ بنا ہوا ہے پولیس ذرائع کے مطابق بدمعاشوں اور زمین مافیاؤں کیلئے بری خبر یہ بھی ہے کہ ہمارے پولیس ہیڈ کواٹر کے اعلیٰ افسران نے ریاستیوزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ و اور نئے ڈی جی پیاو پی سنگھ کی حکمت عملی اور عمدہ تجاویز کے ساتھ جہاں ہائی وے پر پیٹرولنگ اور نگرانی کے لئے درجن بھر نئی پیٹرولنگ گاڑیاں ہر ضلع کے حساس علاقوں کو سونپی گئی ہیں وہیں سی یوجی، وائی فائی اور وہاٹس اپ کے ساتھ ساتھ پولیس کے ریاستی عملہ کو بھی مکمل طور پر اپڈیٹ نیٹ ورک کے ساتھ جرائم پر فوری کنٹرول کیلئے تیار کیا جارہاہے یہ اہم کام کافی حد تک مکمل بھی ہوچکاہے نئے ڈی جی پی کل مغربی اتر پردیش کے سبھی چھوٹے اور بڑے افسران کی میرٹھ میں میٹنگ میں لے چکے ہیں اور جرائم کنٹرول کیلئے بدمعاشوں اور مافیاؤں کیخلاف سخت سے سخت ایکشن کو ہری جھنڈی دے چکے ہیں نتیجہ کے طور پر مافیاء اور جرائم پیشہ افراد آجکل جان بچانیکے لئے در در بھٹکنے کو مجبور ہیں؟ ریاست کے تیز ترار اور قابل اعتماد ڈی جی پیاوپی سنگھنے اپنا اہم عہدہ سنبھالنے کے چند دنوں بعد ہی اپنی صاف ذہن حکمت عملی سے ریاست کی ہٹی اور مفاد پرستانہ مزاج کی عادی یوپی پولیس اور مافیائی گینگ کو اپنے طور طریقہ بدلنے کو مجبور کر دیاہے صرف ضلع سہارنپور ہی میں پولس کپتان سے لیکر سپاہی بھی اب صبح شام علاقہ میں جہاں گشت لگاتے نظر پڑ رہے ہیں وہیں علاقہ کے تھانہ انچارج بھی ہر وقت عوام کی مدد کے لئے موجود رہتے ہیں سبھی کے سی یو جی نمبر اپڈیٹ رہتے ہیں پولیس میں آئی اس اچانک تبدیلی نے جہاں سینئر افسران کا منوبل بڑھایاہے وہیں اب بد معاشوں کی تلاش بھی یوپی پولیس نے بڑے پیمانہ پر سنجیدگی کے ساتھ شروع کردی ہے جس سے بدمعاشوں میں کھل بلی مچی ہے اور بدمعاشوں کے سیاسی سرپرست بھی اندنوں خاصہ یچین ہیں! سہارنپور، شاملی، مظفر نگر، میرٹھ، مراد نگر، علیگڑھ آگرا، کاس گنج، باغپت اور بلند شہر کی وارداتیں پولیس کے منوبل کو گرانے کے لئے کی گئیہے مگر قابل ڈی جی پی اتر پردیش اوم پرکاش سنگھ نے غیر سماجی عناصر، مافیاؤں اور نامی گرامی بدمعاشوں کے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے فوری طور چپہ چپہ ، محلہ در محلہ اور سبھی ہائی وے کی نگرانی اور دیکھ بھال کیلئے چیکنگ کیلئے نئی گاڑیاں حاصل کرکے پولیس کو سونپ دی ہیں سرکار کا یہ اہم قدم بدمعاشوں کے پری پلان کو نیست نابود کرنے کا اہم عملی قدم ماناجارہاہے اب ہر وقت جگہ جگہ اور خاص طور پر شام سویرے ہونے والی سخت ترین چیکنگ نے بھی بد معاشوں کی نیند اور راتوں کاچین چھین لیاہے پولیس گشت سے عوام جہاں اطمینا کی سانس لینے لگاہے وہیں عوام کے دلوں میں پولیس کیلئے تعاون کا جذبہ بھی پیداہونے لگاہے!
یادرہے کہ ریاست میں او پی سنگھ ایسے پہلے ڈی جی پی ہیں کہ جو کمشنری وائز اور ضلعوار خد ہی گھوم گھوم کر پولیس کو پرانی روش سے ہٹاکر جدید روش اختیار کرنے کو تیار کر رہے ہیں اسمیں کوئی شک نہی کہ جرائم کچھ ماہ میں زیادہ تیزی سے پھیلاہے مگر اسکو بڑھاوادینے میں چند پولیس ملازمین، سیاسی رہبر اور سیاسی کا لبادہ اوڑھنے والے مافیاء بھی شامل ہیں مگر ہرایک چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے عوام میں قابل اعتماد ڈی جی پی جاوید احمد نے بدمعاشوں کی ایسی گھیرا بندی کی ہے کہ دس دنوں ہی میں سڑکوں، مین بازاروں اور اہم پاش علاقوں سے مافیاء راہ فرار اختیار کرنے لگے ہیں جگہ جگہ پالیس مستعد کھڑی نظر پڑ تی ہے وہیں پولس کا اخلاقی معیار بھی اندنوں بدلاؤ کی جانب نظر پڑ رہاہے ریاستی ڈی جی پی نے یہاں چھہ روز قبل اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی اپنی صاف ذہنیت کے بل بوتے پر مقامی پولس کے پچاس سال پرانے چلن کو کنارہ کرتے ہوئے جدید اور حالات حاضرہ کے مطابق ڈھالنے میں جو عملی اقدام کئے تھے ان اقدام پر عمل پیراں رہکر ہی اب پولیس نے غنڈہ گردی پر کنترول پانے میں جو کامیابی حاصل کی وہ ریاستی پولیس کے ریکارڈ میں ہمیشہ سنہرے الفاظوں سے شامل رہیگی درجن سے زائد انکاؤنٹر اسی حکمت عملی کا رزلٹ ہے جو سبھی کے سامنے موجود ہے! قابل اعتماد ڈی جی پی نے اپنی لگن اور تجربہ سے بدمعاشوں کو گھیر نیکا جو درس جونیئر اور سینئر پولیس حکام کو پڑھایاہے ہر سمجھدارشہری اس حکمت عملی کی سراہنا کرنے کو مجبور ہے ،ہر وقت ہر جگہ اب پولیس کے جوان چست اور سرگرم نظر آتے ہیں بس ہمارے ڈائریکٹر جرنل پولس کی اسی شاندار کارکردگی کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ریاستی پولس گزشتہ پچاس سال سے اپنے آپکو بدلنا چاہ رہی تھی مگر کسی نہ کسی طور سے جاری سیاسی رسہ کشی کے وہ اپنے آپکو بدل نہی پارہی تھی مگر اب یہ آسان ہو گیاہے اور پولیس کے طور طریقہ میں ہونے والا بدلاؤ جہاں اخبارات کی سرخیاں بناہے وہیں عوان بھی راحت محسوس کرنے لگے ہیں!