Select your Top Menu from wp menus

طوفان

طوفان

ٓآبیناز جان علی
موریشس
ریحانہ پریشان تھی۔ وہ اپنے آنگن کے بیچ میں کھڑی بیڑگیتا طوفان کے ہنگامہ خیز اثر کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ ہر جگہ ٹوٹی ہوئی شاخیں اور پتے تھے۔ آم اور لونگان ہر جگہ زمین پر نظرآئے۔ طوفان تین دنوں تک رہا۔ ۱۴۰ کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتارسے ہوائیں چلی تھیں۔ رات کو ہوا کی سائیں سائیں کی آواز سے اس کے دل میں ایک ہول پیدا ہوا۔ جب بارش کے دھماکے اس کی چھت پر پڑتے تو وہ بستر میں اپنے تکیہ کو زور سے اپنے سینے سے لگاتی۔ ٹن کی چھت سے ٹپ ٹپ پانی ٹپکتا اور نیچے بالٹی میں گرتا جو ریحانہ نے نیچے زمین پر رکھی تھی۔
بجلی چلی گئی تھی۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا۔ اس نے پلنگ کے پاس لگی چھوٹی میز پر ایک مومبتی جلائی تھی جس سے دیواروں پر طرح طرح کے کالے سائے نظر آنے لگے۔ ریحانہ ان کو دیکھتی اور بچپن کے دنوں کو یاد کرتی جب وہ ان کالے سایوں سے متاثر ہو کر اپنی انگلیوں سے جانوروں کے نقش بناتی اور دیوارورں پر بنے کتّے اور خرگوش کے سائے سے وہ عش عش ہوتی۔ ان دنوں طوفان کی وجہ سے جب موریشس میں درجہ ایک کی طوفان چیتاؤنی کا اعلان ہوتا تو اسکولوں کی چھٹی ہوتی۔ دو یا تین دن آرام سے گھر میں گزرتے۔ وہ باہر کاغذ کی کشتی بناتی اور مسلسل بارش کی وجہ سے باغ میں جمع ہوئے پانی میں کشتی کو گردش کرتے ہوئے دیکھ کر ریحانہ پر مسرت ہوتی۔
جب بجلی چلی جاتی تو پگھلی ہوئی موم نتی کو جلی ہوئی دیا سلائی سے شمع دان میں طرح طرح کے نقش بناتی۔ ریڈیو پر ہر گھنٹے طوفان کے متعلق خبریں سننے کو ملیں۔ ٹیوی کے آنٹینا کو نکالا جاتا تاکہ باہر تیز ہوا میں خراب نہ ہو جائے۔ ایک بار ہوا اتنی تیز چلی کہ پڑوسی کی چھت سے ایک چھوٹا پتھر اڑ کر ریحانہ کی کھڑکی سے ٹکرایا اور شیشہ ٹوٹ گیا۔
ریحانہ اپنے آنگن کے بیچوں بیچ کھڑی طوفان سے منسلک ان تمام باتوں کو یاد کر رہی تھی۔ اس نے ایک ایک کر کے ٹوٹی لکڑیوں کو اٹھانا شروع کیا اور انہیں ایک جگہ جمع کیا۔ پھر اس نے جھارو اٹھائی اور آنگن کو صاف کرنے لگی۔ ریحانہ جھاڑو دیتے دیتے رک گئی۔ وہ تھک گئی اور اس نے خود سے کہا:’ زندگی میرا کب تک امتحان لیتی رہے گی؟‘
جو طوفان ریحانہ کے سینے کے اندر برسوں سے اٹھ رہا تھااور تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا، ریحانہ کو معلوم نہیں تھا اس کو کیسے روکا جائے۔ وہ اکیلی حالات سے سمجھوتہ کرتے کرتے تھک گئی۔
طوفان کے یہ تین دن اس کے لئے سخت پریشانیوں میں گزرے۔ وقتاً فوقتاً وہ مسلسل بارش سے بھری بالتی کے پانی کو باہر پھینک آتی۔ پھر بالتی کو واپس اسی جگہ رکھتی۔ پھر زمین پر پونچھا لگاتی اور اپنی چھت کی طرف بے بسی سے دیکھتی۔ طوفان کے آنے سے پہلے اس زنگ آلود چھت کو بدل دینا چاہئے تھالیکن ریحانہ کو گھر کی فکر سے زیادہ اپنے شوہر کی فکر ستاتی جو تین سالوں سے لندن میں کام کر رہا تھا۔ تین سالوں میں اس کا شوہر خالد ایک بار بھی موریشس نہیں آیا۔ خالد لندن میں دن رات ایک کر کے محنت ومشقت سے پیسے کما رہا ہے تاکہ موریشس میں ان کی زندگی بہتر ہو۔
ریحانہ کے دل کے نہاں گوشے میں ایک بے باک صداقت تھی جس کا سامنا کرنے کے لئے ریحانہ میں ہمت نہیں تھی۔ خوف بھی عجیب شے ہے۔ انسان اپنے خوف سے اس قدر گھبراتا ہے کہ دنیا والوں کے سامنے مصنوعی خود اعتمادی کا نقاب اوڑھ کر دن کے اجالے میں دنیا پر فتح پانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ پھر رات کی تاریکی میں اپنے خلوت گاہ میں اکیلے اپنی بزدلی پر آنسو بہاتا ہے۔
ریحانہ نے جھاڑو سمبھالی اور پوری تقویت سے سوکھے پتوں کو یکجا کرنا شروع کیا۔ اس کے اندر غصّے کا فوّارہ اٹھ رہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر ہمیشہ کی طرح اس غصّے کو اپنے اندر ڈبا نا چاہا۔ اس کے ہاتھ اور تیزی سے آنگن کو صاف کرنے میں لگ گئے۔
’مجھے کپڑے دھونے چاہئے۔ کتنے دنوں بعد آج دھوپ نکل آئی ہے۔‘ ریحانہ نے زیرِ لب خود کلامی کی۔
وہ اپنے گھر کے پیچھے گئی جہاں کپڑے دھونے کے لئے ایک بڑا چوکور پتھر تھا جسے اینٹوں کے سہارے زمین کی سطح سے تھوڑا اوپر اٹھایا گیا تھا تاکہ وہ نل کے مدّّ مقابل ہو۔ ریحانہ نے نل کھولا تاکہ بالٹی بھر جائے۔ پانی کے گرنے کے شور سے اسے چند لمحوں کے لئے سکوت ملا۔ اپنے اندر کی آواز کو سننے سے یہی بہتر تھا کہ وہ پانی کے شور پر دھیان دے۔ اس نے گندے کپڑوں کو بالتی میں ڈالنا شروع کیا اور پھر بالٹی میں صابن کا پاؤڈر ڈالا۔ پھر وہ ایک ایک کر کے ان کپڑوں کو اپنی پوری توانائی سے پتھر پر گھسنے لگی۔ کپڑے کو گھستے گھستے اس کے آنسو نکل آئے۔ اس نے بے بسی سے ایک چیخ ماری اوراس کپڑے کو غصّے سے پھنیکا اور نل کا پانی بند کر دیا۔ اس وقت اس کے اندر ندا آئی:’ تم نے مجھے نظر انداز کر دیا۔‘
ریحانہ گھبرائی۔ یہ کیسی آواز تھی؟ یہ کس کی آواز تھی؟ یہ اس کے دل کی آواز تھی جو اس سے وہ چیز کہہ رہی تھی جس کو سننے کے لئے ریحانہ گھبراتی تھی۔ ایک لمحے کے لئے ریحانہ ساکت کھڑی ہوئی اور اس نے اپنی آنکھیں بند کیں۔ اس کی بیٹی کا کھلکھلاتا چہرہ اس کے سامنے نظر آیا۔ الفت آرا اس کی نو سال کی بیٹی جس نے چار سال پہلے ایس۔ایس۔آڑ کے آئی۔ سی۔ یو میں مشینوں کے سہارے اپنی آخری سانس لی تھی۔ اس ننھی سی جان کے جسم سے متعددٹیوب کے جال لگائے گئے تھے جو اس کے جسم میں خون اور زندہ رہنے کے اشیاء فراہم کر رہے تھے۔ اس کے گلے میں سوراخ کر دیا گیا تھا اور سانس لینے کے لئے ایک ٹیوب ڈال دیا گیاتھا ۔ اس کے سر پر پٹیان تھیں۔
گاڑی الفت آراا کے سر سے ٹکرائی تھی ۔ اس وقت وہ اسکول سے لوٹتے وقت راستہ پار کر رہی تھی۔ الفت آراکو گھر آنے کی جلدی تھی۔ گھر لوٹتے وقت الفت آرا کو کتنی بھوک لگتی تھی۔
’میری بیٹی کچھ کھائے بغیر ہی چلی گئی۔‘ ریحانہ نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا۔
ڈرائیورکا نام اجمل تھا۔ وہ اپنے گھر والوں کو کسی شادی میں لے جا رہا تھا۔ اس کے پاس لائسنس نہیں تھا۔ اس نے اپنے بڑے بھائی کی گاڑی لی اور اپنی امّی اور چھوٹی بہن کو شادی میں پہنچا رہا تھا۔ چھوٹی الفت آرا اچانک اس کی گاڑی کے سامنے آئی اور اس نے دیر میں بریک دبایا۔
ریحانہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اس نے خود کو اپنے دونوں ہاتھوں سے زور سے پکڑا۔ اچانک کہہ اٹھی: ’اجمل میں نے تمہیں معاف کیا۔‘
اس جملے سے اسے راحت ملی جیسے کوئی بھاری بوجھ اچانک اس کے سینے سے اٹھ گیا ہو۔ اسے اچانک کمزوری نے گھیڑ لیا اور وہ زمین پر بیٹھ گئی۔ ریحانہ ایک دم خاموش تھی۔ الفت آرااپنے ابّو کی جان تھی۔ جب الفت آرا اسکول کا کام کرتی تو خالد کتنے فخر سے کہتا:’میری اچھی بیٹی پڑھائی کر رہی ہے۔‘
الفت آرا نہ صرف خالد کی آنکھوں کا تارا تھی بلکہ وہ ریحانہ اور خالد کی شادی کا وہ مضبوط دھاگا تھی جس نے ان کے گھر کو مضبوطی سے باندھا تھا۔ الفت آراکے جانے کے بعدریحانہ کے گھر آنگن کی خوشیاں بھی منتشر ہو گئیں۔ اس گھر کا خالی پن خالد کو کاٹ کھانے کو دوڑتا۔ وہ آفس میں وقت گزارتا یا اپنے رشتہ داروں کے گھر جاتا اور دیر رات تک ان سے اپنا دکھ درد بانٹتا۔ ریحانہ کے پاس اس کا خالی گھر تھا اور وہ اندرونی خلا تھی جو اس کی بیٹی کے جانے کے بعد کبھی نہ بھر سکا۔ ایسے میں اسے خالد کے سہارے کی ضرورت تھی۔ لیکن خالد نے بھی اسے خاموشی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔
سارا کی موت کے کچھ سات مہینے بعد خالد ایک دن معمول کے خلاف جلدی گھر آیا اور اس نے ریحانہ کو بتایا کہ وہ لندن جارہا تھا۔ اس نے ایک نرسنگ ہوم میں عرضی بھیجی تھی جو منظور ہو گئی تھی۔ وہ لندن میں کام سیکھنے کے ساتھ ساتھ جزوقتی طور پر نوکری بھی کرے گا۔ایسے میں ریحانہ نے خود کو سمجھایا کہ لندن جانے سے خالد کا اپنی بیٹی سے بچھڑنے کا غم دور ہو جائے گا۔
’ تم نے خالد کے بارے میں سوچا۔ میرے بارے میں نہیں ساچا؟‘ ریحانہ کے اندر ایک بار پھر ندا آئی۔ یہ اس کے ضمیر کی آواز تھی۔
ان تین سالوں میں خالد سے بہت کم بات ہوا کرتی ہے۔ وہ کام میں مصروف رہتا۔ پھر لندن اور موریشس میں چار گھنٹوں کا بھی فرق ہے۔ ایسے میں جب یہاں صبح ہوتی تو وہاں رات ہوتی۔ تین سالوں میں خالد ریحانہ کو مستقل طور پر پیسے بھیجتا رہتا۔
لیکن ریحانہ سوچتی کیا یہ پیسے ایک شوہر کی تلافی کر سکتے ہیں؟ کہاں ہے یہ شوہر جب طوفانی راتوں میں بجلی کے کڑکنے اور بادل کے گرجنے سے اس کے دل میں خوف کا سیلاب امڈ آتا تھا۔ کہاں ہے یہ شوہرجو زنگ آلود چھت کی مرمت کرے۔ کہاں ہے یہ شوہر جو اپنی مصروف زندگی میں اپنا وقت نکال کر اس کی خیر خیریت پوچھنے کے لئے فون کرے یا واپس اس سے ملنے موریشس آئے۔ریحانہ نے اپنے ہاتھوں سے اپنے آنسو پونچھے۔ وہ گھر کے اندر گئی اور خود کو آئینے میں دیکھا۔ ان تین سالوں میں پینتیس سال کی ریحانہ پچاس سال کی لگنے لگی ہے۔ آنکھوں کے گرد کالے حلقے تھے۔ سامنے کے بال بالکل سفید ہوگئے۔ چہرے پر منہ، آنکھوں اور ماتھے کے گرد جھریاں تھیں۔ اس نے خود کو بغور دیکھا۔ اس کا وزن بھی بہت کم ہو گیا ہے۔ اس کمزور عکس سے نظریں ملا کر ریحانہ نے خود سے کہا: ’ تم بہت خوبصورت ہو۔ میں تم سے پیار کرتی ہوں۔‘ اس پر وہ عکس رونے لگا۔ ریحانہ نے پھر خود سے کہا: ’ تم بہت خوبصورت ہو۔ میں تم سے پیار کرتی ہوں۔‘ اس عکس نے ریحانہ کو حیرت و استعجاب بھری نگاہوں سے دیکھا۔
ریحانہ نے ایک بار پھر اپنے عکس سے کہا ’ تم بہت خوبصورت ہو۔ میں تم سے پیار کرتی ہوں۔‘ اس بار وہ عکس مسکرایا۔اس نے پھر اپنا فون سامنے والی میز سے اٹھایا اور خالد کو پیغام بھیجا۔ ’ میں تمہیں آزاد کرتی ہوں۔‘

  • 10
    Shares
  • 10
    Shares