Select your Top Menu from wp menus

موت کا ساحل

موت کا ساحل

زین شمسی
وہ جیسے ہی گھر سے نکلا ، سامنے ملک الموت کھڑے تھے ، وہ گھبرایا ، واپس گھر لوٹا، اس نے تیز رفتار گھوڑا لیا اور سمرقند کی طرف سرپٹ بھاگا ۔ کچھ دیر بعد اس کا بھائی گھر سے نکلا ، اس نے بھی سامنے ملک الموت کو دیکھا ، حیرت اور خوف کے درمیان اس نے ملک الموت سے پوچھا ، میرا بھائی آپ سے خوفزدہ ہو کر سمرقند کی طرف بھاگا ہے اور آپ ابھی تک یہی کھڑے ہیں ، کیا آپ میری جان لیں گے ؟ ملک موت نے کہا ، نہیں ! میں خود حیران ہوں کہ آپ کے بھائی سے مجھے 4گھنٹے کے بعد سمرقند میں ملاقات کرنی تھی اور وہ یہاں بغداد میں کیا کر رہا ہے۔
گویا موت کا دن ہی نہیں وقت بھی معین ہے ، اسی لیے کہتے ہیں کہ جو موت سے بھاگتا ہے وہ موت کی طرف ہی بھاگتا ہے۔
اور جب رابندر ناتھ ٹیگور سے پوچھا گیا کہ لوگ سالگراہ کیوں مناتے ہیں ، جبکہ زندگی کا ایک سال کم ہو جاتا ہے ، انہوں نے کہا کہ وہ اس لیے خوشی مناتے ہیں کہ انہوں نے ایک سال موت کو پیچھے ڈھکیل دیا۔
دراصل موت بھی زندگی کے ساتھ ہی پیدا ہوجاتی ہے ۔ زندگی بڑھتی رہتی ہے اور موت پیچھے کی طرف ڈھکیلی چلی جاتی ہے ، لیکن زندگی کی تھکان کے درمیان وہ پھر ایک بار زور سے حملہ آور ہوتی ہے اور زندگی کو ساتھ لے کر چلی جاتی ہے۔
دنیا کی اس سے بڑی سچائی کوئی نہیں ہے کہ ہر آدمی کی موت ہوگی ،یعنی ’ کل نفس ذائقہ الموت‘۔ اور دنیا کی سب سے حیران کن سچائی یہ ہے کہ سب لوگ اس طرح جیتے ہیں کہ جیسے انہیں مرنا نہیں ہے۔
ایک بے بس چھوٹی سی زندگی کا سودا آپ کس سے کرنا چاہتے ہیں۔ اس زندگی سے جو موت کے بعد آنی ہے۔ 12برس تک آپ والدین کے مرہون منت ہیں اور 65برس بعد آپ اولاد کے مرہون منت ہیں۔ اس درمیان کی جو ہماری زندگی ہے ، اسی کا سودا ہمیشہ کی زندگی سے کیا جاتا رہا ہے۔ قبر یعنی ’ گیٹ آف گلیکسی‘یعنی باب کہکشاں میں داخل ہونے کے بعد آپ اپنے عمل کے حساب سے منکر نکیر کا جواب دے پاتے ہیں اور نتیجہ میں ہمیں جو بھی ملتا ہے اس کا ذکر تمام مذاہب نے واضح طور پر کر دیا ہے۔
موت کا قصہ کون لکھتا ہے بھلا ، لیکن جب جج صاحب نے کہا کہ اِ چھچھا مرتیو یعنی مرنے کی آرزو ہو تو آپ مر سکتے ہیں۔ ایک طرح سے انہوں نے موت کو گلے لگا لینے کو قانونی درجہ میں لا دیا ، ظاہر ہے کہ اب آدمی اپنی مرضی کی زندگی جئے یا نہ جیئے ، اپنی مرضی کی موت منتخب کر سکتا ہے۔
لطیفہ آیا ہے کہ کسی شخص نے عدالت کی اس رولنگ کو توگڑیا کے گھر میں پھینک دیا ہے کہ یار بار بار بچ رہے ہو ، اب تم خود ہی مر جائو ، کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ ادھر اڈوانی جی بھی کب تک اس غمناک حالت میں زندہ رہیں گے ، انہیں بھی بھیشم پتامہ کی طرح اچھچھا مرتیو کا وردان ہے ۔ عدالت کی یہ رولنگ ان کے بھی کام آئے گی۔امت شاہ دور کی کوڑی لاتے ہیں ، ان کے دادا نے نرک سے واٹس ایپ کر دیا ہے کہ بیٹا جتنا پاپ کرنا چاہو کر لو ، نرک میں جگہ ہی نہیں میں بھی دیوار پر بیٹھا ہوں۔‘ تب سے امت شاہ ذہنی طور پر مطمئن ہو کر پاپ کا گھڑا پھوڑ رہے ہیں۔
لطیفے اپنی جگہ لیکن موت کی اس رولنگ پر غور کرنا ضروری ہے کہ ہندوستانی سماج میں اس کی اہمیت ، افادیت اور ضرورت کیوں پیدا ہوئی۔
خودکشی اور خواہش کی موت میں بظاہر تو بہت بڑا فرق ہے ، لیکن یکسانیت بھی ہے۔ ارونا شان باگ کے تناظر مین عدالت نے یہ فیصلہ لیا جو 42سال تک کوما میں رہی ، اور اس کی دیکھ بھال کرنے والوں نے کہا کہ ہم اسے مرنے نہیں دیں گے ، ان سے الگ رہ رہی دنیا کہتی تھی کہ وہ مر جائے تو بہتر ہے۔ اس مر جانے اور زندہ رکھے جانے کے نظریہ کے درمیان کا جو فرق ہے وہی خودکشی اور اچچھا مرتیو کے درمیان کا فرق ہے۔
کسان خودکشی کر لیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے تنگ آ چکے ہوتے ہیں ۔ ابھی ممبئی میں کسانوں کا جو ریلا آپ دیکھ رہے ہیں ، وہ اپنے اوپر ہو رہے مظالم اور آئندہ آنے والی خودکشیوں کو روکنے کا احتجاج ہے۔ کسانوں کی خودکشی، سرکار اور اس سے کسی طرح کا سروکار نہ رکھنے والوں کے لیے بے معنی ہے ، لیکن اس کے پریوار کے لیے ایک ٹریجڈی ہے۔
نفسیاتی طور پر ضعیفی کوئی بیماری نہیں ، بلکہ تنہائی ایک بیماری ہے اور ظاہر ہے کہ تنہائی انسان کو کمزور کر دیتی ہے۔ آج کے اس بے ادب ، غیر اخلاق ہو چکے سماج میں تنہائی کا ڈنک مزید مہلک ہوتاجا رہا ہے۔ کنبہ ٹوٹ چکا ہے۔ رشتے بکھر چکے ہیں۔ انسان خود کے حصار میں قید ہے۔، اور زندگی سمٹ رہی ہے۔ دراصل آدمی یہ سمجھ نہیں پا رہا ہے کہ اس کی زندگی کا تعلق دوسروں کی زندگی سے بھی ہے۔ ہم جتنا اپنے لیے جیتے ہیں ، اتنا ہی دوسروں کے لیے بھی جیتے ہیں۔ اب اس زمانہ میں دوسروں کے لیے جینا کمیاب ہو چکا ہے اور تنہائیوں نے سب کو اپنے گھیرے مین لے لیا ہے ۔ تب لگتا ہے کہ اب زندہ رہے تو کیا کیا اور نہ رہے تو کیا کیا۔
ایسا ماحول کیوں بن رہا ہے۔ سماج اس طرف کیوں جا رہا ہے۔ کیوں بڑے بوڑھے لوگوں کے درمیان اس طرح کی خواہشیں جنم لے رہی ہیں کہ انہیں مر جانا چاہیے۔
اس کا جواب سیاست میں پوشیدہ ہے۔ سیاست نے سماجیات کا تانا بانا بکھیر دیا ہے۔ عوام یا مڈل کلاس لوگ بے بس ہو چکے ہیں ، اور ادھر سیاست داں من مانے طریقے سے سماجی سروکار کا خیال نہ رکھتے ہوئے ملک اور سماج کو ایک ایسے اندھے کنوئیں میں گرانے پر آمادہ ہے جہاں صرف موت ہے۔
تازہ اعداد و شمار دیکھئے ، جو سرکار نے اپنے حلف نامہ میں بتایا ہے کہ ملک کے 1700سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی پر مجرمانہ معاملے چل رہے ہیں۔ ان لوگوں پر کل 3,045 معاملے درج ہیں۔ ظاہر ہے جب ملک کے رہبر ان ہی مجرم ہو جائیں تو عوام کے لیے موت کیا اور آرزوئے موت کیا؟تو گویا اس رولنگ کے بعد
بحر غم سے پار ہونے کے لیے
موت کو ساحل بنایا جائے گا

  • 2
    Shares
  • 2
    Shares