Select your Top Menu from wp menus

2019 منعقد ہونے والا عام انتخاب قبل از وقت کیا کروایا جائیگا؟

2019 منعقد ہونے والا عام انتخاب قبل از وقت کیا کروایا جائیگا؟
 نقاش نائطی
ویسے کرناٹک انتخاب اپریل اواخر یا مئی پہلے ہفتہ میں ہونے چاہئیے. لیکن   باد نسیم سیاست اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ کرناٹک انتخابات نومبر دسمبر 2018 ہوسکتے ہیں.
دراصل وزیر اعظم شری نریندر مودی جی کو مستقبل  کی تاریخ کا  حصہ بننے کا جنون، ایک حد تک سوار ہے کہ وە “ایک ہندستان ایک انتخاب” کا راگ کافی پہلے سے الاپتے آئے ہیں. فی زمانہ رام راجیہ پرتیک، آرایس ایس، بی جے پی، مودی بریگیڈ سرکار کی معاشی اصطلاحات، کچھ ایسی الٹی پڑ رہی ہیں کہ آئے دن ہند کی معشیت ڈگرگوں راە پر گامزن ہے. دیش کا چهوٹا بڑا کاروباری و صنعتی طبقہ مودی بریگیڈ کی معاشی پالیسیوں سے اتنا پریشان و بدحال ہے کہ مودی بریگیڈ کے کٹر حمایتیوں کے لئے بھی، مودی کی معاشی پالیسیز، “نہ نگلے بنے نہ اگلے بنے”کے متوارف یے. ایسے میں دن بدن مودی بریگیڈ کا گرتا پاپیولرٹی گراف، خود مودی بریگیڈ کے پالیسی سازوں کے لئے بھی الجھن کا باعث بنے ہوئے یے. شمال مشرق ریاستوں کے حالیہ انتخاب میں، لمبے لال  انقلاب کی چھتر چھایہ سے بیزار،زعفرانی کالے دھن کی برسات سے سیراب ہوتے، موسمی مشرومنگ زعفران نوازی، گو عقل و فہم و ادراک رکھنے والوں کے لئے متحیر العقل کارنامہ نہیں، لیکن مودی بریگیڈ، یوپی کے کسی حلقہ  سے بھی کم وقعت والی، ان چهوٹی ریاستوں کی جیت کو،اپنے کروڑوں کیڈر کے من و بل کو قائم رکھنے کے لئے، بطور امرت استعمال کر، 2019 دوبارہ عام انتخاب جیتنے کے فراق میں لگتی ہے. اس پس منظر میں، مرکزی عام انتخاب کو قبل از وقت کرتے ہوئے، آئیندہ پانچ سالہ اقتداردہلی کو یقینی بنانے کی مودی بریگیڈ کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی “ایک ہندستان ایک انتخاب” کے نعرے میں پنہاں نظر آتی ہے. اس سمت پیش رفت کے طور مرکزی سرکار نے تمام ریاستی حکومتوں کو، خصوصا کانگریس راجیہ والی کرناٹک سرکار سے “ایک ہندستان ایک انتخاب” پر عمل پیرا ہونے کے تناظر میں، کرناٹک ریاستی انتخاب چھ ماہ ملتوی  کرنے کے سلسلے میں رائے،طلب کرچکی ہے. چونکہ ہندستان کی چهوٹی بڑی 19 ریاستوں کا زمام اقتدار، بی جے ہی بریگیڈ کے ہاتهوں میں ہی ہے، اس لئے اگر کرناٹک کی کانگریس سرکار اپنی میعاد حکومت کے اختتام بعد، توسیع مدت کی صورت، گورنر راج کے اثرات بد سے بچنے کے لئے، انتخاب ملتوی کرنے سے انکار بھی کردے تو،”ایک ہندستان ایک انتخاب” کے دل لبھاونے نعرہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے، مرکزی سرکار، صدارتی آرڈیننس کی لاٹھی کا استعمال کر،کرناٹک ریاست کے انتخاب کو چھ ماہ کے لئے ملتوی کرسکتی ہے.”ایک ہندستان ایک انتخاب” آزادی ہند کے ابتدائی سالوں میں ہوتے رہے ہیں.اور اس طریقے انتخاب سے ہندستانی معشیت، ایک بہت بڑے معاشی بوجھ سے بچ بهی سکتی ہے. لیکن کیا آزاد الیکشن کمیشن ،پورے ہندستان کے ریاستی و مرکزی انتخاب کو ایک ساتھ، ایک وقت میں وقوع پزیری کے لئے تیار ہے؟ کیا پورے ہندستان میں ایک ساتھ انتخاب کروانے کے لئے،الیکشن کمیشن کے پاس مناسب مقدار میں درکار ای وی ایم اور وی وی پیڈ پرنٹنگ مشین موجود ہیں؟ کیا ایک ساتھ ہونے والے انتخاب میں کسی بھی قسم کی گڑبڑی نہ ہونے  کی ضمانت دی جاسکتی ہے؟ مانا کہ وی وی پیڈ پرنٹنگ مشین  کے رہتے ای وی ایم چهیڑچهاڑ انتخابی نتائج متاثر ہونے کے مواقع کم ہیں لیکن سابقہ گجرات انتخاب میں چونکہ سبھی انتخابی حلقوں میں ای وی  ایم کے ساتھ وی وی پیڈ پرنٹنگ کا اہتمام کیا گیا تھا. گجرات کے مختلف حساس علاقوں کے وی وی پیڈ پرنٹنگ ووٹوں کی دستی گنتی کرواتے ہوئے، اس حلقہ کے ای وی ایم نتائج سے تقابل کر، ای وی ایم طرز انتخاب کو تمام چهیڑ چهاڑ سے پاک صاف و شفاف طرز انتخاب ثابت کرتے ہوئے، سو کروڑ ہندستانی ووٹروں کا، ای وی ایم پر اعتماد بحال کیا جاسکتا تھا. یہ اس تناظر میں بهی ضروری تھا جب دیش کی مرکزی ریاست دہلی پر حکومت کرنے والی “آپ” سیاسی پارٹی نے دہلی اسمبلی میں ای وی ایم چهیڑ چهاڑ نتائج اثر انداز ہونے کو،الکٹرونک میڈیا پر ثابت کیا تھا.  دیش کی سب سے بڑی عدلیہ کے معزز جج صاحبان نے،دیش کی تاریخ میں پہلی مرتبہ، دیش کی میڈیا کے سامنے، مرکزی زعفرانی سرکار کے دباؤ میں کام کرنےکا الزام، دیش کے سب سے معزز چیف جسٹس آف انڈیا پر لگانے سے بھی گریز نہیں کیا تها. اس تناظر میں پورے ہندستان  میں مرکزی و ریاستی انتخاب ایک ساتھ کروانے کے پیچھے،زعفرانی پارٹی کے مخفی ایجنڈے کو نظر  انداز، کیا کیا جاسکتا ہے؟ یہ ایک اہم سوال یے جس پر دیش کے لاکھوں کروڑوں سیکیولر ذہن مختلف الحلقہ جات کے ارباب حل و عقل کو تدبر و تفکر کرنا ہے.کیونکہ 2019 منعقد پزیر عام انتخاب، رام راجیہ پرتیک آرایس ایس بی جے پی مودی بریگیڈ  کےاس چار سالہ دور حکومت کے خفیہ تر مگر، جگ ظاہر ایجنڈے، ہزاروں سالہ گنگا جمنی تہذیبی سیکیولر آثاث، دستور ہند کو تبدیل کر، اس چمنستان ہند کو، ہندو راشٹریہ میں تبدیل کرنے کے، بانی جن سنگھ ویر ساورکر اور  انگریزوں کے حمایتی وعدہ معاف گواہان کے ساتھ ہی ساتھ قاتل مہاتما گوڈسے کے آئیڈیالوجیکل  ساتهیوں کے خوابوں کی طرف کھسکتا ہندستان لگتا ہے
بی جے پی کی گرتی ساکھ اور کانگریس کی بڑهتی مقبولیت کے گراف کے چلتے، ایکسویں صدی کی ابتداء میں بظاہر کامیاب  واجپائی حکومت کے دل لبھاونے نعرہ “چمکتاہندستان” (شائیننگ انڈیا) کا جو حشر ہوا تھا اس سے بھی خراب حالت، 2019 مودی جی کے اچھے دن کی درگت بنتے دکھتی ہے. ایسے میں جس جوش و ولولہ  کی امید کی جانی چاہئیے تھی اس کا فقدان جہاں کانگریس خیمہ میں نظر آتا یے وہیں پر اپنے چار سالہ دور کی اتنی بری معاشی معاشرتی ڈگرگوں حالت کے باوجود، مودی بریگیڈ کا “ایک ہندستاں ایک انتخاب” کا نعرہ ان کی 2019  عام انتخاب کسی بھی صورت  جیتنے کی ایک آخری کوشش نظر آتا ہے.ایسے میں کسی بھی بہانے 2019 مودی بریگیڈ اپنی ساکھ بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس میں مودی بریگیڈ کی صلاحیتوں سے کہیں زیادە، کانگریس لیڈرشپ میں عوامی غم و غصے والے رجحان  کو جیت  میں  بدلنے کی صلاحیتوں کا فقدان ثابت ہوگا
گجراتی پرائم منسٹر اور گجو بهائیوں کے دیش کے مختلف اہم مناصب پر براجمان رہتے، گجراتی بڑے تاجروں کا ہندستانی بنکوں کو، ہزاروں کروڑ کا چونا لگا کر ودیش بھاگ جانا یا کروڑوں کے قرضے واپس نہ ادا کر، اپنے آپ کو دیوالیہ ظاہر کر، دیش کے بنکوں کے ہزاروں لاکهوں کروڑ ہڑپ کر جانے کی خبریں روز کا معمول بن گیا ہے. کچھ ہزار روپیہ کا قرض بنکوں کو وقت پر ادا نہ کرنے والے،دیش کے نچلے پچهڑے ذات برادری کے کسان خودکشی کرنے پر جہاں مجبور ہیں، وہیں پر ہزاروں لاکهوں کروڑ دیش کے بنکوں کا قرض لیکر واپس بنکوں کو نہ لوٹانے والی خالصتا اکثریتی برہمن لابی، خود عیش و عشرت کی زندگی جیتے ہوئے،دیش کے بنکوں کو دیوالیہ قرار دینے کی کگار پر لا کهڑی کر رہی ہے اور دیش کا قانون و عدلیہ ان لٹیرے برہمنوں کے خلاف کچھ کرنے سےمیں قاصر و بے بس نظر آتا یے. دیش کے ارباب حل وعقل مذہبی منافرت سے اوپر اٹھ کر سنجیدگی سے تحقیق کریں تو بهگوڑے ملیہ اور مودی کے دیش کے بنکوں کو لوٹی رقم سے کئی سو گنا زیادە، ہندستانی ایک فیصد برہمن لابی، دیش کے بنکوں سے قرض لئے ہوئے ہے.اور اپنے سیاسی آقاؤں سے سود و قرض معاف کرواتے عیش و عشرت کی زندگی جہاں جی ریے ہیں  وہیں پر دیش کے ہزاروں کروڑ دیش وأسیوں کی گاڑھی کمائی پر پنپنے والے بنک تباہ و برباد ہورہے ہیں
مودی حکومت نے اپنے دل لبھاونے اور وعدوں کی طرح، دیش کے غریبوں کو مین اسٹریم ترقی پزیر ہندستانیوں سے جوڑنے کے نام پر،ادھار کارڈ سے انہیں جوڑتے ہوئے، حکومتی مراعات براہ راست دیش واسیوں کے کهاتوں میں ذپازٹ کروانے کے بہانے سے،   بغیر ایک پائی ڈپوزٹ لئے بنکوں میں لاکهوں کروڑ، غریبوں کهاتے کھلوائے تھے جس کا ایک طرف فائیدہ پونجی پتیوں نے نوٹ بندی کے موقع پر، کالے دھن کو غریبوں کے کروڑوں کهاتوں میں ڈپازٹ کروا کر، ہزاروں کے کالے دهن کو سفید کیا تها، وہیں پر گیس سلنڈر  پوری قیمت کروڑوں غریب دیش واسیوں سے اوصول کر ، سبسیڈی کی رقم ان کے کهاتوں میں برا راست ڈپازٹ  کروانے کے بہانے سے، بغیر ایک پائی ڈپازٹ کئے، کروڑوں غریبوں کے کهلے کهاتوں میں جمع،  کروڑوں کی سبسیڈی رقوم کو، بنک چارجز کے نام سے دیش کے بنکوں کو لوٹنے کے مواقع  فراہم کیا نہیں کئے گئیے تهے؟ فری میں ایکاونٹ کھلواکر، مینیمم ڈپازٹ (Minimum Deposit) نہ ہونے کے بہانے سے، کروڑوں غریب دیش واسیوں کے کهاتوں میں جمع ہزاروں کروڑ کی سبسیڈی کو، بنک چارجز کے نام سے ہضم کرواتے ہوئے، غریب دیش واسیوں کے لئے اچھے دن کے خواب دکهاکر، غریب دیش واسیوں کو دی جانے والی کروڑوں کی سبسیڈی سے غریب دیش واسیوں کو محروم کر ، پونجی پتی برہمنوں کے ہاتھوں لٹے لٹائے بنکوں کو، ایک حد تک سہارا دینے کی، یہ گجراتی پونجی پتی پالیسی تهی؟ یا غریبوں کی حکومتی سبسیڈی پر ہاتھ صاف کرنے کا،ہزاروں کروڑ کا نیشنل اسکیم تها؟اللە ہی مالک و حافظ یے اس چمنستان ہندستان کا جسے لوٹنے والے ہی، اپنے آپ کو دیش کا سب سے بڑا نگہبان ثابت کرنے سے نہیں کتراتے.واللہ الموفق
         +966504960485
  • 2
    Shares
  • 2
    Shares