Select your Top Menu from wp menus

حکومت نوشتہ دیوار پڑھ لے، خواتین طلاق ثلاثہ بل کے خلاف ہیں ہم قانون شریعت کے پابند ہیں، طلاق ثلاثہ بل حکومت واپس لے کے نعروں کی تختیوں کے ساتھ لاکھوں مسلم خواتین مدہوبنی کے سڑکوں پر اتریں

حکومت نوشتہ دیوار پڑھ لے، خواتین طلاق ثلاثہ بل کے خلاف ہیں ہم قانون شریعت کے پابند ہیں، طلاق ثلاثہ بل حکومت واپس لے کے نعروں کی تختیوں کے ساتھ لاکھوں مسلم خواتین مدہوبنی کے سڑکوں پر اتریں
مدہوبنی سے عمرفاروق قاسمی کی تفصیلی رپورٹ /اسٹار نیوز ٹوڈے
قاضی اعجاز احمد قاسمی اور قاضی حبیب اللہ، قمرالہدی تمنا اور رکن اسمبلی جناب فیاض احمد کی موجودگی میں محترمہ صباحت ریحانہ رونق پروین، ریحانہ بانو، بے نظیر خالد، رخشندہ جہاں، عذرا شاکر، ترانہ صدیقہ، عالیہ خورشید نے اپنی لاکھوں سہیلیوں کے ساتھ آج مدہوبنی ڈی ایم کے سامنے   لگ بھگ  ساڑھے بارہ بجے عرضِ داشت پیش کر کے کہا کہ ہم مسلمان عورتیں حکومت ہند کے ذریعے پارلیمنٹ میں پاس شدہ طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرتے ہیں،ہم مسلم خواتین کا یہ شدید احساس ہے کہ مسلم ویمن (پروٹیکش آف رائٹس ان میرج) ایکٹ 2017 بڑی عجلت میں پاس کیا گیا ہے اور اس بل کی تیاری میں کسی مسلمان عالم دین اور دانشوروں سے مشورہ نہیں لیا گیا، سپریم کورٹ کے فیصلے 22/08/2017 کے بعد ایسے بل کی کوئی ضرورت نہیں تھی، یہ بل دراصل دستور ہند کی دفعات اور خواتین و بچوں کے مفادات کے سخت خلاف ہے ہم صدر جمہوریہ ہند کے حالیہ مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں خطبہ کے دوران مسلم خواتین کے سلسلے میں جو ایک اور دل آزار حملے کئے گئے اس کی سختی سے نہ صرف مذمت کرتے ہیں، بلکہ حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صدر جمہوریہ کے ان الفاظ اور ریمارکس کو حذف کرے، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلم ویمن پروٹیکش بل کے نام پر مسلم خواتین کی اہانت و دل آذاری نہ کرے، ہم مسلم خواتین کو دستور ہند میں دئیے گئے حق آذادی و اختیارات کو سلب کرنے کے کوشش نہ کرے، ہمارا مطالبہ ہے کہ صدر جمہوریہ کے خطاب میں سے مسلم خواتین سے متعلق سطور کو حذف کیا جائے اور حکومت کو مشورہ دیا جائے کہ اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے احساسات کو مجروح نہ کرے،
پورا مدہوبنی خواتین سے جل تھل تھا محتاط اندازے کے مطابق پانچ لاکھ خواتین کا مجمع تھا، تمام عورتیں تختیاں لئے ہوئی تھیں جس پر اردو، ہندی اور انگلش میں لکھا ہوا تھا ہم قانون شریعت کے پابند ہیں، ترپل طلاق بل واپس لو، ہمیں یہ بل منظور نہیں، شریعت کا قانون ہمارا اعزاز ہے،ہم شریعت میں تبدیلی نہیں چاہتے،ہماری شریعت میں مداخلت بند کرو، صدر جمہوریہ اپنا پارلیمانی خطاب واپس لیں ، یاد رہے کہ خواتین کا یہ مجمع لگ بھگ نوبجے پہلے تو مدرسہ اسلامیہ رگھو نگر بھوارہ مدہوبنی میں جمع ہوا پہر   لگ بھگ گیارہ بجے مدرسہ سے روانہ ہوااور ہاسپٹل روڈ ہوتے ہوئے  لگ بھگ ساڑھے بارہ بجے کلکٹریٹ آفس پہنچا دوبجے دن تک پورا مدہوبنی شہر جل تھل رہا ، الحمد للہ کسی ناخوش گوار واقعہ کی خبر نہیں ہے  قاضی اعجاز احمد قاسمی قاضی شریعت مدرسہ اسلامیہ محمودالعلوم دملہ ،قاضی حبیب اللہ، مفتی ابوذر قاسمی، مولانا محمد یوسف قاسمی، عمرفاروق قاسمی، قمر الہدی تمنا، پرویز نظرا، حسان بدر، احمر حسن دلارے، امتیاز منا عماد الدین سرور، فیاض احمد ایم ایل اے،مفتی روح اللہ قاسمی، جیلانی ہیرو ایجنسی، مولانا نسیم قاسمی، برکت اللہ اونسی مولوی منظر، مولانا اسرائیل، مشتاق پپرون پرسا، مولانا نورالدین قاسمی، ضیاء مکھیا، کفیل مکھیا، مولانا ابو قمر صاحب، معاذ جانی پور، رحمت حسین کھرہر، جسیم الدین سابق سرپنچ، بدیع الزماں، مولانا اسلم صاحب بانکا، مولانا انس قاسمی، عبد المنان قاسمی، جسیم عرف آلے نے اس احتجاجی مظاہرہ کو کامیاب بنانے میں سرگرم رول ادا کیا، بالخصوص مفتی اعجاز احمد قاسمی قاضی شریعت مدرسہ اسلامیہ محمودالعلوم دملہ کی شبانہ روز کی محنت نے اس مظاہرے میں مزید چار چاند لگائے.
 
  • 6
    Shares
  • 6
    Shares