Select your Top Menu from wp menus

بدلے حالات میں بہارراجیہ سبھا انتخاب 

بدلے حالات میں بہارراجیہ سبھا انتخاب 

اشرف استھانوی
بہار میں راجیہ سبھا کی 6 سیٹوں کیلئے ہونے والے دو سالہ انتخاب میں سبھی امیدوار وں کا بلا مقابلہ منتخب ہونا یقینی ہوگیا ہے۔نامزد گی کے غذات داخل کرنے کے آخر ی دن مختلف سیاسی پارٹیوں کے طرف سے مجموعی طور پر 6 امیدوار نے ہی پرچے داخل کئے ہیں۔جن امیدواروں میں کا بلا مقابلہ منتخب ہونا طے ہے ان میں جنتادل یوکی طرف سے اس کے ریاستی صدر وششٹھ نارائن سنگھ اور ڈاکٹر مہندر پرساد عرف کنگ مہندر ،بی جے پی کی طرف سے پارٹی کے قومی ترجمان اور دہلی یونیورسٹی میں سماجیات کے پروفیسر اور صدر سعئبہ ،ڈاکٹر منوج جھا اور کٹیہا ر میڈیکل کالج کے بانی اور مینجنگ ،ڈائر کٹر احمد اشفاق کریم اور کانگریس کی طرف سے سابق مرکزی وزیر اکھلیش پرساد سنگھ ،شامل ہیں۔ابھی تک یہ سبھی سیٹیں حکمراں این ڈی اے کے قبصے میں تھیں مگر بدلے ہوئے حالات میں اب حکمراں اور اپوزیشن اتحاد میں یہ سیٹیں برابری میں منقسم ہوگئی ہیں۔یہ پہلا موقع ہے جب حکمراں اور اپوزیشن اتحاد اور اپوزیشن اتحاو دونوں کیلئے برابر مواقع ہیں۔


راجیہ سبھا امیدوار کے انتخاب میں سبھی پارٹیوں نے الگ الگ فارمولے کو اپنایا ۔آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد نے ڈاکٹر احمد اشفاق کریم اور منوج جھا کو آگے کر کے مسلمان اور برہمن کا نیا مساوات قائم کرنے کی کوشش کی ،کانگریس نے اکھلیش سنگھ کو امیدوار بنا کر عظیم اتحاد میں سماجی توازن بنانے کا پیغام دیا تو بی جے پی نے روی شنکر پرساد کو دوبارہ آگے کر کے بہار میں تجربے اور قابلیت کو تر جیح دی۔اسی طرح حکمراں جے ڈی یو کے سربراہ اور بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر تیسری بار مہندر پرساد سنگھ اور وششٹھ نارائن سنگھ کو راجیہ سبھا میں بھیج کر تجربے کا احترام کیا اور پارٹی کے تئیں وفاداری کا انعام دیا ۔
جنتا دل یونے اپنے دو موجودہ ارکان و ششٹھ نارائن سنگھ اور کنگ مہندر کو ہی ایک بار پھر راجیہ سبھا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔اول الذکر 2012 میں بھی پارٹی کی طرف سے راجیہ سبھا کئے تھے،جنکہ کنگ مہندر 2012 علاوہ2006 میں بھی بہار سے راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہوئے تھے۔بی جے پی کے پاس چونکہ ایک سے زائد ارکان کو منتخب کرانے کے صلاحیت نہیں ہے۔اس لئے اس نے صرف روی شنکر کو ایک بار اپنا امیدوار بنایا ہے۔راشٹریہ جنتا دل کے پاس پہلے سے چونکہ کوئی سیٹ نہیں تھی اس لئے دونوں سیٹوں پر اس کے نئے امیدوار ہیں ۔پارٹی نے دونوں سیٹوں کے پارٹی کی ضرورتوں اور امیدواروں کی افادیت کو دھیان میں رکھتے ہوئے دو نئے امیدوار اتارے ہیں۔پارٹی نے فی الحال شردیا دو کو اسلئے موقع نہیں دیا کیوں کہ وہ ابھی رکنیت بحال کرانے کی قانون لڑائی لڑ رہے ہیں جبکہ جیتن رام مانجھی کے بیٹے کو کونسل بھیج کر ان کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔جہاں تک کانگریس کا سوال ہے تو اس کے پاس ایک سیٹ جیتنے کیلئے ضروری 35 ووٹ نہیں تھے مگر اتحاد پارٹی راشٹر یہ جنادل کے سر پلس ووٹوں کی مدد سے وہ ایک امیدوار کو راجیہ سبھا بھیجنے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔اسے سی پی آئی ایم ایل کی بھی حمایت حاصل تھی۔پارٹی کی طرف سے اس ایک سیٹ کیلئے دونام گردش میں تھے میرا کمار اور اکھلیش سنگھ مگر پارٹی نے سابق صدر اشوک چودھری کی بغاوت کے بعد کے حلات میں سماجی سمیکر ن اور آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد کے ساتھ قربت کے پیش نظر اکھلیش سنگھ کو ترجیح ہے۔


اس انتخاب میں اپوزیشن عظیم اتحاد بہار 6 میں 3 سیٹیں جیت کر اپنی پٹھ ٹھونک سکتی ہے۔مگر قومی سطح پر این ڈی اے کیلئے یہ انتخاب بڑی خوشخبری لے کر آیا ہے۔کیونکہ اس انتخاب کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں این ڈی اے کو اکثریت حاصل ہو جائے گی۔اور اس کے بعد بھی ایوان میں کوئی بھی بل پاس کرانے کی پوزیشن میں آجائے گا۔تین طلاق کے خلاف تنازعہ بل لوک سبھا سے پاس ہونے کے بعد راجیہ سبھا میں پھنسا ہوا ہے۔لیکن اب حکمراں اتحاد کیلئے اس بل کو راجیہ سبھا بھی پاس کرانا آسان ہو جائے گا ۔اور جو کام سرکاری اجلاس اور بجٹ اجلاس میں اس نہیں ہو سکا وہ مانسون اجلاس میں آسانی سے ہو جائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی حکمراں این ڈی اے کے ذمہ داریوں اور عوامی تو قعات میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

  • 6
    Shares
  • 6
    Shares