Select your Top Menu from wp menus

’’خون کے آخری قطرے تک ہم شامی مسلمانوں کے ساتھ ہیں‘‘ مسلم ممالک کی خاموشیاں افسوس ناک: شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی 

’’خون کے آخری قطرے تک ہم شامی مسلمانوں کے ساتھ ہیں‘‘ مسلم ممالک کی خاموشیاں افسوس ناک: شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی 

بنگلور،13 مارچ(محمد فرقان): علماء کرام نے حدیث شریف کے حوالے سے لکھا ہے کہ شر کے دس حصے ہیں، ایک حصہ ملک شام میں پھیلا ہے اور باقی نو پوری دنیا میں اور خیر کے دس حصے ہیں، نو ملک شام میں پھیلے ہیں اور ایک پوری دنیا میں ملک شام انبیاء کرام کی سر زمین ہے، بیت المقدس کی سرزمین ہے، معراج کی سرزمین ہے۔ہزاروں رحمتیں، برکتیں، کارنامے ملک شام سے جڑی ہیں۔دجال جو دنیا کا سب سے خطرناک اور آخری فتنہ ہوگا اس کا بھی خاتمہ ’مقام لد‘ملک شام میں ہوگا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ السلام اسلام مسلمان دشمنوں کے خلاف جو علم جہاد بلند کریں گے وہ یہی ملک شام سے کریں گے۔’ غوطہ‘ شہر جس کی تعریف نبی کریم ﷺ نے خود کی ہے آج وہاں یہ وقت کا فرعون بشار الاسد، سنی مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے، لاکھوں مسلمان اب تک شہید ہو چکے ہیں، ہمارے چھوٹے چھوٹے معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے مسل دیا جارہا ہے۔ لیکن آج مسلمان سب کچھ رکھتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کیا ہوا ہے۔ان باتوں کا اظہار خیال شام کے موجودہ حالات کے پیش نظر مسجد قمر ،قمر نگر چندرا لے آؤٹ بنگلورمیں منعقد اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے شیر کرناٹک شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔


شاہ ملت نے فرمایا کہ آج اگر فرعون، نمرود، ہٹلر موجود ہوتے تو وہ بھی بشار الاسد کے کمینے پن کو دیکھ کر شرم محسوس کرتے۔مولانا نے فرمایا کہ ہمارے اکابرین چیخ چیخ کر یہ کہتے رہے کہ شیعہ کافر ہے لیکن ہم نے انکی بات نہیں مانی لیکن آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ شام میں مظلوم مسلمان پر شیعہ کس طرح ظلم ڈھا رہا ہے۔ مولانا نے فرمایا ان شہیدوں کی موت کو ذلت کی موت کہنے والے کان کھول کر سن لیں شہید مرتا نہیں ہے، زندہ رہتا ہے۔ یہ لوگ مرے نہیں ہیں بلکہ انہوں نے شہادت کا تاج پہن لیا ہے،جنت میں داخل ہوگئے ہیں، انکی لڑائی کوئی ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ اسلام کا مسئلہ ہے۔نیز فرمایا کہ شامی مظلوم مسلمانوں سے ہمارا رشتہ اخوت اسلامی کا ہے،خون کے آخری خطرے تک ہماری ہمدردیاں انکے ساتھ وابستہ ہیں ،ان پر ڈھائے جارہے ظلم پر مسلم ممالک کی خاموشیاں افسوس ناک ہیں ۔مولانا نے فرمایا کہ آج مسلمانوں کے دماغ میں یہ سوال وائرس کی طرح پھیل گیا ہے کہ جس ملک کے بارے میں اتنی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں لیکن اس کا انجام کیا ہورہا ہے؟ مولانا نے فرمایا کہ مسلمان احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ، کسی قوم پر حالات، آزمائشیں آتی ہیں تو وہ صرف انکے درجات بلند کرنے کیلئے اور زندہ قوموں پر ہی حالات آتے ہیں اور مسلمان ہی ایک زندہ قوم ہے۔
مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ آج ملک شام کے حالات کو دیکھ کر ہم صرف افسوس کررہے ہیں۔انہوں نے سوال کھڑا کرتے ہوئے فرمایا کہ اس واقعہ سے کیا ہماری زندگیوں میں تبدیلی آئی؟ کیا ہمارے کھانے پینے، شادی بیاہ کے اندر فرق آیا؟ کیا ہم نے اللہ سے رجوع کیا اور شامی مجاہدین کیلئے دعائیں کی؟ مولانا نے آنسو بھرے الفاظ میں فرمایا کہ کل قیامت کے دن اگر کوئی شہید معصوم شامی بچہ اللہ سے یہ کہے گا کہ ہم تو تیرے دین کے خاطر شہید ہورے تھے، ہمارے پاس کفن دفن کیلئے بھی کچھ نہیں تھا، ہم خون کے آنسو رو رہے تھے لیکن یہ تیرے بندے جو مسلمان بھی تھے، اتنی طاقت بھی رکھتے تھے کہ ہماری مدد کرے لیکن یہ لوگ اپنے عیاشیوں میں، موج مستیوں میں مصروف تھے، غیروں کے طور طریقے کو اپنائے ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ تب تم کیا جواب دو گے؟آج ضرورت ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کے طریقوں کو اپنائیں اور اسلام میں پوری طرح داخل ہوجائیں اور مظلوم کی مدد کریں انکا سہارا بنیں۔
مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا آج مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہی ہے۔وہ تم ہی تھیں کہ کبھی تمہاری کوکھ سے قاسم بن محمد ؒ پیدا ہوا تھا، صلاح الدین ایوبیؒ پیدا ہوا تھا، ٹپو سلطانؒ پیدا ہوا تھا، شیخ الہند ؒ پیدا ہوا تھا۔ جب تم سنت کے مطابق اپنی زندگی گزارتی تھیں ایسے مجاہدین تمہاری کوکھ سے پیدا ہوا کرتے تھے لیکن جب سے تم نے فلمی اداکاروں کے طریقے کو اپنایا تمہاری کوکھ سے ایسے لوگ پیدا ہونا بند ہوگئے۔مولانا نے فرمایا کہ تم فاطمہؓ، عائشہؓ کے دوپٹے کو اپنا کر تو دیکھو تمہاری کوکھ سے ایسے بچے پیدا ہونگے جو تمہارا نام دونوں جہاں میں روشن کریں گے۔مولانا نے فرمایا کہ جو لوگ آج ان فلمی ستاروں کے عاشق بنے ہوئے ہیں وہ نہیں جانتے کہ ان فلمی ستاروں کے پردے کے پیچھے کتنا ذلت آمیز اندھیرا ہے۔ یہ لوگ سامنے تو اچھے نظر آتے ہیں لیکن پیچھے وہ بڑی ذلت اور تکلیف کی زندگی گزارا کرتے ہیں، جن کا اندازہ انکی عبرت ناک موتوں سے پتہ چلتا ہے۔ ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ انکی اکثر موت ڈرکس ، شراب، آتمہ ہتیا سے ہوتی ہے، حال ہی میں مری چاندنی کی موت اسکا زندہ ثبوت ہے۔
شاہ ملت نے آخر میں فرمایا کہ آج ضرورت ہے کہ ہم شعیت کا، انکے اور اسرائیلی پروڈکٹ کا بائیکاٹ کریں،اپنی مساجد میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں اور فلمی ستاروں کے طریقہ کو چھوڑ کراپنی زندگی کو نبی ﷺکے بتائے ہوئے طریقوں پر گزاریں۔ قابل ذکر ہیکہ اجلاس سے پہلے شاہ ملت کا استقبال پھولوں کی بارش سے کیا گیا۔ شیرکرناٹک زندہ باد، شاہ ملت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے پورا علاقہ گونج اٹھا اور اللہ اکبر کی صدائیں بھی بلند ہوئیں۔اجلاس کی صدارت حبیب الامت مولانا ڈاکٹر محمد ادریس حبان صاحب رحیمی نے کی۔اجلاس کا آغاز مسجد ہذاکے امام حافظ یونس صاحب کی تلاوت سے ہوئی جس کے بعد مولانا عبد الرزاق صاحب قاسمی نے نعت پڑھا اور شاہ ملت کی شان میں اور شام کے مظلوم مسلمانوں پر ایک نظم بھی پڑھی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا سعید الرحمن صاحب قاسمی انجام دے رہے تھے۔ اجلاس میں ہزاروں کی تعداد میں مرد اور خواتین نے شرکت کی۔ اجلاس میں متعدد مرتبہ شامی مجاہدوں پر لاکھوں سلام، شامی شہیدبچوں پر لاکھوں سلام، شہدائے اسلام زندہ باد، کافر کافر شیعہ کافر کے نعرے لگائے گئے اور اللہ اکبر کی صدائیں بھی بلند ہوئی۔ اجلاس کا اختتام صدر جلسہ کی مختصر دعا سے ہوا۔

  • 4
    Shares
  • 4
    Shares