Select your Top Menu from wp menus

….اپنا تو بن..  ایک عصری داستان سفر

….اپنا تو بن..  ایک عصری داستان سفر
توقیر بدر القاسمی
ابھی گزشتہ ہفتے کی بات ہے.راقم بذریعہ ٹرین علی گڑھ سے واپس گھر آرہا تھا.ہولی کی وجہ سے کافی بھیڑ تھی.ان میں اکثریت برادران وطن کی تھی.اپنی مختص نشست Reserved Seat پر پہونچا.وہاں دہلی سے ہی کچھ نوجوان اور بزرگ عمر کے پہلے سے براجمان تھے.
اللہ کا کرم یہ ہوا کہ ان سبھوں نے بنا کسی حیل وحجت کے نشست خالی کردی! رات کا وقت تھا.ہم بھی دراز ہوگئے اور جگہ اتنی باقی رکھ چھوڑی کہ ہم و معمر بزرگ شخص کم از کم دراز ہوسکیں!یوں کہیے کہ بنا کسی امتیاز واختصاص کے ہم نے آپس میں اس سیٹ کو شییر کیا . الحمد للہ خلاف معمول رات اچھی کٹی!
صبح کو سبھوں نے چائے ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد مجھے وہ سبھی موبائل پر اردو ٹائپ کرتا نیز کرتا پاجامہ میں ملبوس کوئی ودّوان سمجھ بیٹھے. بات چیت شروع ہوئی.مجھے تعجب اس پر تھا کہ وہ دوران گفتگو ہمارا لحاظ اس قدر رکھ رہے تھے جیسے کہ انکا کوئی بڑا یا پھر اپنا دھرم گرو ہوں. القاب وآداب نیز انداز تخاطب سبھی کچھ اپنا ایک اثر چھوڑنے والا.
خیر ان میں ایک غالباً لاء کے اسٹوڈنٹ تھے انہوں نے بہت کچھ پوچھا.وہ ایک چیز یہ بھی پوچھ بیٹھے کہ
“سر جی!چھما کیجیے گا ایک چیز یہ ہم پوچھنا چاہیں گے کہ آپ کے جو انتم سندیشٹا (آخری نبی ص)ہیں وہ جب کسی مدے میں کوئی بات کہتے ہیں یا کسی کیس کا نمٹارا کرتے ہیں تو وہ فیصلہ کیس والے پارٹی تک ہی عمل درآمد ہوتا ہے” آگے مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے سلسلہ گفتگو دراز کرتے ہوئے یہ کہا “مگر ہمارا جو اپنا جیوڈیشری سسٹم(عدالتی نظام) ہے اس میں تو یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی ججمنٹ سپریم کورٹ کا(عدالت عظمی کا کوئی فیصلہ)آتا ہے تو وہ پورے بھارت ورش(پورے ملک)پر لاگو ہوتا ہے.وہ سبھی کے لیے انیواریہ (لازم) ہوتا ہے. تو آپ بتائیں کہ آپ کسے بہتر سمجھتے ہیں اور کون سا طریقہ آج اکیسویں صدی میں سماج کےلیے بہتر ہے؟
_*”سچ پوچھیے یہاں جلد بازی میں مطلق کسی ایک پہلو کو اپنانا اور ترجیحی طور پر اسے بتانا نہ تو یہ قرین انصاف ہوتا اور نہ ہی اسلام کی اور ملک و باشندگان ملک کے بیچ بحیثیت مسلمان؛مسلمانوں کی سچی ترجمانی!*_
اس وقت فورا دل دل میں اپنے خالق ومالک کو یاد کرتے ہوئے جو کچھ بحیثیت طالب علم اسلامی فقہ وشرعی قوانین نیز ملکی وآئینی دستور کا مطالعہ کر رکھا تھا.اسکا نچوڑ اس طرح بتانے کی اپنی سی سعی کی!
*”دیکھیے ہماری عدالت عظمی یعنی سپریم کورٹ جو اپنا ججمنٹ دیتی ہے اسکا باریکی سے جائزہ لیں گے تو دو شقیں نظر آئیں گی.نمبر ایک :ایک شق اور حصہ وہ ہوتا ہے جہاں سپریم کورٹ قانون کے کسی پہلو کی وضاحت کرتی ہے. یا پھر کسی نیے قانون کو enunciate کرتی ہے. جس کا اطلاق تمام شہریوں پر ہوتا ہے. یہ حصہ ہر شخص کے لیے واجب التعمیل (انیواریہ) ہوتا ہے. ماتحت عدالتیں اس کی پابند ہوتی ہیں.نمبردو:سپریم کورٹ کے ججمنٹ کا دوسرا حصہ وہ ہوتا ہے جو خاص ہوتا ہے. وہ صرف فریقین پر نافذ ہوتا ہے. جیسے کہ مان لیجیے ابھی ہم میں سے کوئی بنا ٹکٹ پکڑا جائے تو اسے عدالت جو کچھ بھی فاین کریگی وہ اسی تک محدود ہوگی! البتہ بنا ٹکٹ سفر کرنا جرم ہے اگر کوئی پکڑا جائیگا تو اسے اتنا فاین اور اتنی مدت جیل ہوگی. ان جیسی وضاحت اور enunciate سارے ملک پر نافذ ہوگا. ٹھیک اسی طرح ہمارے انتم سندیشٹا آخری نبی مرسل علیہ الصلاۃ والتسليم کے جو بھی ججمنٹ بحیثیت قاضی ہویے ہیں؛اس کے بھی اسی طرح دو حصے ہوتے ہیں. اس پہلو سے دیکھیں گے تو ان میں کوئی تعارض نظر نہیں آئیگا؛بلکہ آج کا عدالتی نظام بہت حد تک ان سلسلہ پاک سے ہی مستعار ہے. ایسا دکھائی دیگا. اور اکیسویں صدی کیا end of the time تک یہ سلسلہ پاک انسانیت کے لیے بہتر اور مفید ہی رہیگا. ان شاء اللہ. بشرطیکہ اسے ان اصولوں کا ہی پابند رکھا جائے جن کو ہمارے انتم سندیشٹا ہمیں دے کر گئے ہیں “*
ہماری باتیں وہ سبھی بڑےصبر و سکون سے سن رہے تھے. ہماری وضاحت پر نہ صرف وہ مطمئن ہوئے؛ بلکہ وہ باضابطہ یہ پوچھنے پر مجبور ہوئے کہ آپ کی تعلیم کون سے پاٹھ شالہ و یونیورسٹی سے ہوئی اور ابھی کیا کرتے ہیں؟وغیرہ وغیرہ.کمال تو یہ بھی ہوا کہ” راہل سنگھ “نامی نوجوان نے بیر خریدے اور بإصرار اس میں سے چند بیر کھانے پر آمادہ کر ایک عجیب وغریب سالوں بعد ذاتی طور پر” ہندو مسلم اتحاد”کا مائدای احساس کراگیے.”سالوں بعد”اس لیے کیونکہ بچپن میں اپنی بستی بہدورا کے بغل میں ڈمرا جو تیلی_ واضح رہے بہار میں تیلی غیر مسلم ہی ہوتے ہیں_ کی بستی ہے. وہاں اپنے دادا مرحوم اور والد محترم_اللہ ان کا سایہ تادیر باقی رکھے آمین_کے متمول و زراعتی پیشے سے جڑے تیلی حضرات انکے دوست ہیں.ان سے مراسم ابھی بھی ہیں.انکے گھر شادی بیاہ میں جاکر انکے ساتھ بیٹھ کر پوری کچوری کھانا ان دنوں میں کافی محبوب ہوا کرتا تھا.
کچھ دیر پھر سبھی اپنے اپنے موبائل وغیرہ پر مشغول رہے. پتا نہیں “منوج یادو” نامی نوجوان کو کیا شرارت سوجھی یا اسکا مجھ اردو داں سمجھ کر اسے بھولا پن کہیے؛کہ اس نے اردو غزل سنانے کی فرمائش کرڈالی. ہم نے “غزل گو “اور” عالم و مفتی” کے بیچ اردو داں ہونے کے باوجود جو کچھ فرق ہوتا ہے، اسے سمجھایا. پھر وہ مان گیا. اتنے میں راقم کے موبائل پر ایک میسج ہولی کے متعلق دکھائی پڑا.موقع کو غنیمت جان “ہولی” کی انگریزی حروف والی تشریح شروع کردی. سبھی ہمہ تن گوش ہوکر پھر سننے لگے. ہم نے کہا کہ آپ کے اس پَرو وتہوار کا مقصد اپنی ذات اور اپنے سماج سے نفرت کا خاتمہ اور محبت کی انٹری کرنے کا ہرسال ایک عزم ہوتا ہے.اور ہونا چاہیے؛ چنانچہ H=Hate اسی طرح O=out اسی طرح L=ove اور I=in. یہی ادّیش ہے آپ کے اس تہوار کا.سبھی اس لفظی تجزیاتی منطق سے خوب خوب محظوظ ہویے.
بہر کیف آخر میں ان میں سے تین صاحب نے اپنے اپنے نام کی ترسیم اردو رسم الخط میں کرنے کی فرمایش کی. ہم نے ان تینوں کو کاغذ نہ ملنے کی صورت میں انکی مطلوبہ ٹکٹ کے پشت پر ہی وہ مطلوبہ “ترسیم” دے دی.ایک کا نام “نرنجن سنگھ” تھا دوسرے کا “راہل سنگھ” اور تیسرے کا “منوج یادو” چھپرا آتے آتے وہ سب  ہاتھ ملا ملا کر خوشگوار موڈ میں رخصت ہوگئے.اور ہم بھی دربھنگہ اتر کر گھر آئے.اپنے بچوں اور کاروبار علم ومطالعے و دیگر سرگرمیوں میں ایسا منہمک ہوئے کہ ٹرین میں کیا کچھ ہوا.اسے یاد رکھنا اور پھر اسے اسکرین پر بیٹھ کر اتارنا شاید رفتار وقت کی بھول بھلیوں  کی نذر ہوگیا.
 
آج ابھی اسے کیوں لکھا؟کیسے لکھا؟ اس کا بھی ایک reason ہے کارن ہے.وہ یہ ہے کہ حسب معمول رات بعد مغرب وعشا اپنے مطالعہ گاہ میں بیٹھا مطالعہ کررہا تھا.سامنے
“محاضرات سیرت” ودیگر “محاضرات:فقہ؛ تجارت وغیرہ” از ڈاکٹر محمود غازی رحمہ اللہ کی روشنی میں ان سے اخذ کردہ سوال وجواب پر مشتمل (“سوال وجواب معروف دینی اسکالر ڈاکٹر محمود غازی کی کتب ولیکچر سے”)نامی کتاب تھی . اس کےمرقوم صفحہ پانچ پر ایک سوال وجواب بعینہ ایسا ہی آگیا.بڑی شوق وجستجو کے ہاتھوں اسے ایک بار نہیں تقریباً پانچ بار پڑھا.اور پڑھ کر اس قدر متاثر ہوا کہ اسے؛ اور اسکی روشنی میں ٹرین پر گزرے لمحات کو لکھے بغیر نہ رہ سکا.ممکن ہے یہ سر گزشت پھر کبھی؛ کسی اور وقت میں راقم کے لیے ہی مزید اچھے کاموں کے لئے مہمیز کرنے کا کام کرجاے! آخر اقبال مرحوم نے مجھ جیسے افتاد طبع کے لیے ہی تو یہ کہا تھا:
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
 ڈائریکٹر المركز العلمی للإفتاء والتحقيق سوپول والتحقيق سوپول دربھنگہ بہار
  • 14
    Shares
  • 14
    Shares